لرزا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - وہ کپکی جو خوف یا بیماری کی حالت میں ہوتی ہے، تھر تھر کانپنا۔ "سانس الگ پھول رہا، ہاتھوں میں لرزا، آنکھوں تلے اندھیرا۔"      ( ١٩٢٨، پس پردہ، آغا حیدر حسن، ٧٦ ) ٢ - زلزلہ، بھونچال۔  مارے بہائے لو ہو گھال لرزا پڑیا سات پتال      ( ١٥٠٣ء، نوسرہار، ٦٣ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'لرزہ'" کا متبادل املا ہے۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٠٣ء کو "نوسرہار" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ کپکی جو خوف یا بیماری کی حالت میں ہوتی ہے، تھر تھر کانپنا۔ "سانس الگ پھول رہا، ہاتھوں میں لرزا، آنکھوں تلے اندھیرا۔"      ( ١٩٢٨، پس پردہ، آغا حیدر حسن، ٧٦ )

جنس: مذکر