لرزانا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - ہلانا، جنبش دینا، حرکت دینا۔ "زلزلہ آئے گا، ایسا زلزلہ جو پوری دنیا کو مدتوں لرزاتا رہے گا۔"      ( ١٩٨٥ء، اردو ڈائجسٹ، لاہور، فروری، ٨٩ ) ٢ - کپلپا دینا، ہلا دینا؛ (مجازاً) خوف زدہ کر دینا۔ "مسلمان ایسے جوش و خروش سے ان تحریکوں میں شریک ہوئے کہ. جس نے ہندوستان کی زمین کو لرزا دیا تھا۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٠٤ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ مصدر 'لرزنا' کا تعدیہ ہے۔ اردو زبان میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٧٠ء کو "دیوانِ مشرف" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہلانا، جنبش دینا، حرکت دینا۔ "زلزلہ آئے گا، ایسا زلزلہ جو پوری دنیا کو مدتوں لرزاتا رہے گا۔"      ( ١٩٨٥ء، اردو ڈائجسٹ، لاہور، فروری، ٨٩ ) ٢ - کپلپا دینا، ہلا دینا؛ (مجازاً) خوف زدہ کر دینا۔ "مسلمان ایسے جوش و خروش سے ان تحریکوں میں شریک ہوئے کہ. جس نے ہندوستان کی زمین کو لرزا دیا تھا۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٠٤ )