لرزنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - خوف، غصے یا سردی وغیرہ سے تھر تھرانا، کانپنا، بدن میں رعشہ ہونا، (مجازاً) ڈر جانا۔ "لرزاں لرزاں، نم نم نظریں جیسے ہوا میں لرزتا ہلکورے لیتا نیلا کنول پانی میں بھیگ گیا ہو۔"      ( ١٩٩٠ء، بھولی بسری کہانیاں، بھارت، ٤٢٤:٢ ) ١ - لرزہ، جنبش، زلزلہ۔ "اگر حکم ہوئے، اس امت جفا کار پر زمین کو لرزنے میں لا، اولٹ دوں مانند قوم لوط کے۔"      ( ١٧٣٢ء، کربل کتھا، ٢٣٦ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'لرز' کے ساتھ 'نا' بطور لاحقۂ مصدر لگانے سے فعل 'لرزنا' اردو میں فعل اور گا ہے بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خوف، غصے یا سردی وغیرہ سے تھر تھرانا، کانپنا، بدن میں رعشہ ہونا، (مجازاً) ڈر جانا۔ "لرزاں لرزاں، نم نم نظریں جیسے ہوا میں لرزتا ہلکورے لیتا نیلا کنول پانی میں بھیگ گیا ہو۔"      ( ١٩٩٠ء، بھولی بسری کہانیاں، بھارت، ٤٢٤:٢ ) ١ - لرزہ، جنبش، زلزلہ۔ "اگر حکم ہوئے، اس امت جفا کار پر زمین کو لرزنے میں لا، اولٹ دوں مانند قوم لوط کے۔"      ( ١٧٣٢ء، کربل کتھا، ٢٣٦ )