لرزہ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - وہ کپکپی جو خوف یا بیماری کی حالت میں ہوتی ہے، تھرتھراہٹ، لرزش، رعشہ، (مجازاً) شدید خوف۔ "اس کا نام ہی پرانے زمانے میں کشمیریوں میں لرزہ پیدا کرتا تھا۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٣٧٤ ) ٢ - پھونچال، زلزلہ۔ "جب زمین اور پہاڑوں میں لرزہ ہو گا۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٦٨٦:٤ ) ٣ - سردی اور کپکپی کے ساتھ ہونے والا بخار، جاڑا بخار، حمی ناففہ۔ "مچھر کی شامت آجائے . کم بخت باری کے لرزے میں چل بسے گا۔"      ( ١٩٦١ء، سات سمندر پار، ٢٨ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ کپکپی جو خوف یا بیماری کی حالت میں ہوتی ہے، تھرتھراہٹ، لرزش، رعشہ، (مجازاً) شدید خوف۔ "اس کا نام ہی پرانے زمانے میں کشمیریوں میں لرزہ پیدا کرتا تھا۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٣٧٤ ) ٢ - پھونچال، زلزلہ۔ "جب زمین اور پہاڑوں میں لرزہ ہو گا۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٦٨٦:٤ ) ٣ - سردی اور کپکپی کے ساتھ ہونے والا بخار، جاڑا بخار، حمی ناففہ۔ "مچھر کی شامت آجائے . کم بخت باری کے لرزے میں چل بسے گا۔"      ( ١٩٦١ء، سات سمندر پار، ٢٨ )

جنس: مذکر