لعن

قسم کلام: اسم کیفیت ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - پھٹکارا، (خدا کی) مار، نفرین۔  ہوتی تھی لعن آل رسول کریم پر جاہل چڑھے تھے منبر خلق عظیم پر      ( ١٩٣٨ء، روح انقلاب، ١٣ ) ٢ - سخت و سست، زجرد تو بیخ، جھڑکی، سرزنش (بیشتر طعن کے ساتھ)۔ "کمینہ وہ شخص ہے جو شریعت کے حکم سے واقف ہوا اور پھر رسم و رواج کی شرم سے یا لوگوں کے لعن و طعن کے ڈر سے اس کے کرنے میں تامل کرے۔"      ( ١٨٩٩ء، حیات جاوید، ١٤٥:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - سخت و سست، زجرد تو بیخ، جھڑکی، سرزنش (بیشتر طعن کے ساتھ)۔ "کمینہ وہ شخص ہے جو شریعت کے حکم سے واقف ہوا اور پھر رسم و رواج کی شرم سے یا لوگوں کے لعن و طعن کے ڈر سے اس کے کرنے میں تامل کرے۔"      ( ١٨٩٩ء، حیات جاوید، ١٤٥:١ )

اصل لفظ: لعن