لعنت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - پھٹکار، (خدا کی) مار، نفرین۔ "جو عورت سے ڈرے ایسے مرد پر لعنت اور پھٹکار ہے۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٢٣ ) ٢ - برا بھلا، سخت و سست۔ (ماخوذ: فرہنگ آصفیہ، علمی اردو لغت)۔ ٣ - عذاب، مصیبت نیز ذلت۔ "غربت خواہ جسم کی ہو خواہ جان کی ایک لعنت ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، نشیب، ٣٣٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردومیں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پھٹکار، (خدا کی) مار، نفرین۔ "جو عورت سے ڈرے ایسے مرد پر لعنت اور پھٹکار ہے۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٢٣ ) ٣ - عذاب، مصیبت نیز ذلت۔ "غربت خواہ جسم کی ہو خواہ جان کی ایک لعنت ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، نشیب، ٣٣٥ )

اصل لفظ: لعن
جنس: مؤنث