لعین

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - ملعون، مردود، لعنتی، دوزخی، پھٹکارا ہوا۔  ایک کہتا تھا کہ بھارت کو کیا تو نے بھرشٹ ایک کہتا تھا خرِ دجّال ہے تو اے لعیں      ( ١٩٣١ء، بہارستان، ٦٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: لعن