لفظ
معنی
١ - وہ آواز جو منھ سے نکلے، کلمہ جو زبان سے نکلے (بیشتر یا معنی)، فقرہ، بات۔ "بولا ہوا لفظ دراصل ہوا کی امانت ہو جاتا ہے۔" ( ١٩٩٣ء، قومی زبان، کراچی، دسمبر، ١٣ ) ٢ - لب و لہجہ، تلفظ نیز طرز بیاں۔ (پلیٹس)۔ ٣ - قول و عدہ، اقرار۔ "آپ نے . خدا کے سامنے کہا تھا، آپ اپنے لفظوں سے پھر جائیں گے۔" ( ١٩٢٢ء، انار کلی، ١٣٥ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - وہ آواز جو منھ سے نکلے، کلمہ جو زبان سے نکلے (بیشتر یا معنی)، فقرہ، بات۔ "بولا ہوا لفظ دراصل ہوا کی امانت ہو جاتا ہے۔" ( ١٩٩٣ء، قومی زبان، کراچی، دسمبر، ١٣ ) ٣ - قول و عدہ، اقرار۔ "آپ نے . خدا کے سامنے کہا تھا، آپ اپنے لفظوں سے پھر جائیں گے۔" ( ١٩٢٢ء، انار کلی، ١٣٥ )