لقمہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کھانے کی وہ مقدار جو ایک بار منھ میں ڈالیں، نوالہ، طعمہ۔ "روٹی جب بھی اس کے منہ تک آتی ہے تو وہ فوراً اس میں سے ایک لقمہ دانتوں سے کاٹ لیتا ہے۔"      ( ١٩٨٢ء، پٹھانوں کے رسم و رواج، ٩١ ) ٢ - پان کی گلوری، بیڑا۔ "بیڑا، پھولوں کا گہنا، پاؤں کے لقمے، چاندی سونے کے ورق لگے ہوئے چاندی کے چنگیز پاندان میں۔"      ( ١٩١١ء، قصہ مہر افروز، ٣٩ ) ٣ - مراد: روزی، رزق، کمائی۔ "کسب و ہنر کا لقمہ پاکیزہ ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، بزم صوفیہ، ٣٧١ ) ٤ - توپ میں بیک وقت بھرے جانے والے گولوں کا مجموعہ۔ "ہر گاڑی . دو سو لقمے یاروت و گولے توپ کے اور بے شمار ٹوٹنے بندوق کے لے جاتی تھی۔"      ( ١٨٤٧ء، حملات حیدری، ٣٣٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٠١ء کو "آرائش محفل" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کھانے کی وہ مقدار جو ایک بار منھ میں ڈالیں، نوالہ، طعمہ۔ "روٹی جب بھی اس کے منہ تک آتی ہے تو وہ فوراً اس میں سے ایک لقمہ دانتوں سے کاٹ لیتا ہے۔"      ( ١٩٨٢ء، پٹھانوں کے رسم و رواج، ٩١ ) ٢ - پان کی گلوری، بیڑا۔ "بیڑا، پھولوں کا گہنا، پاؤں کے لقمے، چاندی سونے کے ورق لگے ہوئے چاندی کے چنگیز پاندان میں۔"      ( ١٩١١ء، قصہ مہر افروز، ٣٩ ) ٣ - مراد: روزی، رزق، کمائی۔ "کسب و ہنر کا لقمہ پاکیزہ ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، بزم صوفیہ، ٣٧١ ) ٤ - توپ میں بیک وقت بھرے جانے والے گولوں کا مجموعہ۔ "ہر گاڑی . دو سو لقمے یاروت و گولے توپ کے اور بے شمار ٹوٹنے بندوق کے لے جاتی تھی۔"      ( ١٨٤٧ء، حملات حیدری، ٣٣٤ )

اصل لفظ: لقم
جنس: مذکر