لنڈا
معنی
١ - کٹا ہوا (سر یا دھڑ وغیرہ)۔ "لنڈا کے معنی ہیں کٹا ہوا۔" ( ١٩٦٢ء، فن تحریر کی تاریخ، ٣٣٤ ) ٢ - دم کٹا (جانور)۔ "بڑی بی کے لنڈے اور سنڈے مرغ طمع کا نوخیز. پر پرواز۔" ( ١٨٨٦ء، خیالات آزاد، عبدالغفور شہباز، ٢٧ ) ٣ - جس کے بال یا پر نہ ہوں، بے بال و پر۔ جھالر نہ ہو جس میں تو وہ اقرار ہے لنڈا وعدہ ہے وہی جس میں اگر بھی ہو مگر بھی ( ١٩٣٧ء، ظریف لکھنوی، دیوانجی، ٨٢:١ ) ٤ - جس میں پتے یا شاخیں نہ ہوں۔ "پتے ایک ایک کر کے جھڑ جاتے ہیں. درخت لنڈا ہو جاتا ہے مگر مرتا نہیں۔" ( ١٩٢١ء، شمع ہدایت، ٢٩١ ) ١ - [ کنایۃ ] وہ پیرہن وغیرہ جس کے دامن چھوٹے ہوں، چھوٹے دامن کا انگرکھا۔ (جامع اللغات، نور اللغات)۔ ٢ - سرا، نوک، کنگرہ، کنگورا۔ "جن کی شکل ولایتی مہندی کے پتے کے سرے کی ہے اس لیے ان کو ولایتی مہندی کے سے کنگرے یعنی لنڈے کہتے ہیں۔" ( ١٨٤٨ء، اصول فن قبالت (ترجمہ)، ٢٢ ) ٣ - پنجابی زبان کی لکھائی۔ "سب سے اہم ملتانی زبان ہے جس کا خط لنڈا کی ایک قسم ہے۔" ( ١٩٦٢ء، فن تحریر کی تاریخ، ٣٣٤ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اسم 'لنڈ' کے ساتھ 'ا' بطور لاحقۂ نسبت و تذکیر لگانے سے 'لنڈا' بنا۔ اردو میں بطور صفت اور گاہے بطور اسم استعمال ہوتا ہے ١٧٥١ء کو "نوادر الالفاظ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کٹا ہوا (سر یا دھڑ وغیرہ)۔ "لنڈا کے معنی ہیں کٹا ہوا۔" ( ١٩٦٢ء، فن تحریر کی تاریخ، ٣٣٤ ) ٢ - دم کٹا (جانور)۔ "بڑی بی کے لنڈے اور سنڈے مرغ طمع کا نوخیز. پر پرواز۔" ( ١٨٨٦ء، خیالات آزاد، عبدالغفور شہباز، ٢٧ ) ٤ - جس میں پتے یا شاخیں نہ ہوں۔ "پتے ایک ایک کر کے جھڑ جاتے ہیں. درخت لنڈا ہو جاتا ہے مگر مرتا نہیں۔" ( ١٩٢١ء، شمع ہدایت، ٢٩١ ) ٢ - سرا، نوک، کنگرہ، کنگورا۔ "جن کی شکل ولایتی مہندی کے پتے کے سرے کی ہے اس لیے ان کو ولایتی مہندی کے سے کنگرے یعنی لنڈے کہتے ہیں۔" ( ١٨٤٨ء، اصول فن قبالت (ترجمہ)، ٢٢ ) ٣ - پنجابی زبان کی لکھائی۔ "سب سے اہم ملتانی زبان ہے جس کا خط لنڈا کی ایک قسم ہے۔" ( ١٩٦٢ء، فن تحریر کی تاریخ، ٣٣٤ )