لنڈورا

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - بے دم کا (پرندہ)، دم بریدہ۔  کہ بی بلی بخشو ہماری خطا کہ اس سے تو چوہا لنڈورا بھلا      ( ١٩٥٠ء، ضمیر خامہ، ٥٨ ) ٢ - [ مجازا ]  جس کی شادی نہ ہوئی ہو، مجرد۔ "سب جوڑے جوڑے تھے، صرف لالی لنڈورا تھا۔"      ( ١٩٧٨ء، جانگلوس، ٣١٧ ) ٣ - تنہا، اکیلا، بے یارو مددگار۔ "وہ . ولایت کی چمپت ہوئی میاں لنڈورے رہ گئے۔"    ( ١٩٠٨ء، اقبال دلہن، ٢٥ ) ٤ - آوارہ "یہ ١٩٤٨ء کی بات ہے . کام کاج تھا نہیں لنڈورے پھرتے تھے۔"    ( ١٩٨٩ء، افکار، کراچی، اگست، ٥٤ ) ٥ - جس کے سر یا مونچھ وغیرہ کے بال نہ ہوں، صفا چٹ، گنجا۔ "خوجی نے جو آئینے میں اپنی صورت دیکھی تو مونچھ نہیں لنڈورے بنے ہوئے۔"      ( ١٨٨٠ء، فسانہ آزاد، ٢٧٨:٢ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ صفت کا محرف 'لنڈورا' اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٤٨ء کو "تاریخ ممالک چین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - [ مجازا ]  جس کی شادی نہ ہوئی ہو، مجرد۔ "سب جوڑے جوڑے تھے، صرف لالی لنڈورا تھا۔"      ( ١٩٧٨ء، جانگلوس، ٣١٧ ) ٣ - تنہا، اکیلا، بے یارو مددگار۔ "وہ . ولایت کی چمپت ہوئی میاں لنڈورے رہ گئے۔"    ( ١٩٠٨ء، اقبال دلہن، ٢٥ ) ٤ - آوارہ "یہ ١٩٤٨ء کی بات ہے . کام کاج تھا نہیں لنڈورے پھرتے تھے۔"    ( ١٩٨٩ء، افکار، کراچی، اگست، ٥٤ ) ٥ - جس کے سر یا مونچھ وغیرہ کے بال نہ ہوں، صفا چٹ، گنجا۔ "خوجی نے جو آئینے میں اپنی صورت دیکھی تو مونچھ نہیں لنڈورے بنے ہوئے۔"      ( ١٨٨٠ء، فسانہ آزاد، ٢٧٨:٢ )

اصل لفظ: لنڈا