لومڑی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ایک چھوٹے سے جانور کا نام جو بلی کے برابر ہوتا ہے اور اکثر شیر کے آنے سے چلاتا پھرتا ہے، (کنایۃ) عیار، مکار، گربۂ مسکیں، بگلا بھگت۔ "وہ میرے قدموں میں پس کر لومڑی کا بچہ ایسا رہ جاتا ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، آخری آدمی، ٤٢٢ )

اشتقاق

اصلاً پراکرت زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں پراکرت سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ایک چھوٹے سے جانور کا نام جو بلی کے برابر ہوتا ہے اور اکثر شیر کے آنے سے چلاتا پھرتا ہے، (کنایۃ) عیار، مکار، گربۂ مسکیں، بگلا بھگت۔ "وہ میرے قدموں میں پس کر لومڑی کا بچہ ایسا رہ جاتا ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، آخری آدمی، ٤٢٢ )

جنس: مؤنث