لوٹ
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - کسی سے لڑ بھڑ کر یا چھین جھپٹ کر لیا ہوا مالی یا سامان، مال غنیمت۔ ہم رہزنان قافلۂ گل کی لوٹ میں تقسیم سب بہار کا اندوختہ ہوا ( ١٩٦٨ء، غزال و غزل، ١٢٩ ) ٢ - زبردستی یا ظلم سے کسی کا مال لینا، زبردستی کسی کے مال پر قبضہ کر لینا، چھین جھپٹ، غارت گری، تارا جی۔ چلے ہیں حسن کے بازار میں ہم متاع دل کی رہتی ہے جہاں لوٹ ( ١٩٢٤ء، ثمرۂ فصاحت، ١١ )
اشتقاق
پراکرت کے اصل لفظ 'لنٹا' سے ماخوذ 'لوٹ' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٤٩ء کو "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: لنٹا
جنس: مؤنث