لوہا
معنی
١ - سختی میں لوہے سے مشابہ شے۔ "ان بازوؤں میں خون منجمند ہوکے لوہا بن گیا ہے۔" ( ١٩٦١ء، سات سمندر پار، ٥٥ ) ٢ - مضبوطی اور وزن میں لوہے کی طرح بھاری، وزنی، بھاری۔ (فرہنگ آصفیہ، جامع اللغات)۔ ١ - ایک خاکستری رنگ کی دھات جو معدنی ڈھیلوں کو پگھلا کر حاصل کی جاتی ہے اور 530 درجۂ حرارت پر پگھلتی ہے اس سے آلات، اوزار اور ہتھیار بنائے جاتے ہیں، آہن، حدید۔ "یکایک یہ کھلونا کپڑے یا لوہے یا ربڑ یا پلاسٹک کی بنی ہوئی شے نہیں رہ جاتا بلکہ باقاعدہ سانس لینے، ہنسنے، رونے، بگڑنے یا پیار کرنے لگتا ہے۔" ( ١٩٨٩ء، سمندر اگر میرے اندر گرے، ٥٧ ) ٢ - [ اصطلاحا ] استری جو درزی اور دھوبی وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ (جامع اللغات)۔ ٣ - تلوار "لوہا صاف ہوا کیا ہر ایک عازم دشت معاف ہوا۔" ( ١٨٨٠ء، طلسم فصاحت، ١٩١ ) ٤ - سکہ، دھاک۔ "جن کی شجاعت کا لوہا تمام ملک میں مشہور تھا۔" ( ١٩١٨ء، آفتاب دمشق، ٩٦ )
اشتقاق
اصلاً پراکرت کا لفظ ہے اردو میں پراکرت سے ماخوذ ہے۔ اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم اور گا ہے بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - سختی میں لوہے سے مشابہ شے۔ "ان بازوؤں میں خون منجمند ہوکے لوہا بن گیا ہے۔" ( ١٩٦١ء، سات سمندر پار، ٥٥ ) ١ - ایک خاکستری رنگ کی دھات جو معدنی ڈھیلوں کو پگھلا کر حاصل کی جاتی ہے اور 530 درجۂ حرارت پر پگھلتی ہے اس سے آلات، اوزار اور ہتھیار بنائے جاتے ہیں، آہن، حدید۔ "یکایک یہ کھلونا کپڑے یا لوہے یا ربڑ یا پلاسٹک کی بنی ہوئی شے نہیں رہ جاتا بلکہ باقاعدہ سانس لینے، ہنسنے، رونے، بگڑنے یا پیار کرنے لگتا ہے۔" ( ١٩٨٩ء، سمندر اگر میرے اندر گرے، ٥٧ ) ٣ - تلوار "لوہا صاف ہوا کیا ہر ایک عازم دشت معاف ہوا۔" ( ١٨٨٠ء، طلسم فصاحت، ١٩١ ) ٤ - سکہ، دھاک۔ "جن کی شجاعت کا لوہا تمام ملک میں مشہور تھا۔" ( ١٩١٨ء، آفتاب دمشق، ٩٦ )