لٹ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - بالوں کی لڑ، منجملہ گندھے ہوئے یا ایک دوسرے سے چپٹے ہوئے بالوں کی لڑی۔ "انگلستان کے مصوروں کانسٹیل اور لڑنر کے ہاں طلوع و غروب کی نیر نگیاں دیکھیے تو بادلوں کو دیکھ کر دھانی ڈوپٹے لٹ چھٹکائیں کی یاد آجاتی ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، فیضان فیض، ٩٩ ) ٢ - تاگوں یا ریشوں وغیرہ کی لڑی، رسی ڈوری، وغیرہ کی وہ ہر لڑی جس کو دوسری لڑی سے ملا کر رسی اور ڈوری بناتے ہیں۔ "کچی لٹ سن کی لے کر اوپر سے خوب لپیٹو۔"      ( ١٩٢٥ء، محب المواشی، ٢٧ ) ٣ - [ بنائی ]  دری کے کناروں کی ستلی یعنی سوت کی موٹی رسی جو بطور کنی پاتانے کی بغلیوں میں لگائی جاتی ہے، بیوڑ۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 103:2)

اشتقاق

اصلاً سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں سنسکرت سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥١٨ء کو "دکنی ادب کی تاریخ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بالوں کی لڑ، منجملہ گندھے ہوئے یا ایک دوسرے سے چپٹے ہوئے بالوں کی لڑی۔ "انگلستان کے مصوروں کانسٹیل اور لڑنر کے ہاں طلوع و غروب کی نیر نگیاں دیکھیے تو بادلوں کو دیکھ کر دھانی ڈوپٹے لٹ چھٹکائیں کی یاد آجاتی ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، فیضان فیض، ٩٩ ) ٢ - تاگوں یا ریشوں وغیرہ کی لڑی، رسی ڈوری، وغیرہ کی وہ ہر لڑی جس کو دوسری لڑی سے ملا کر رسی اور ڈوری بناتے ہیں۔ "کچی لٹ سن کی لے کر اوپر سے خوب لپیٹو۔"      ( ١٩٢٥ء، محب المواشی، ٢٧ )

جنس: مؤنث