لٹانا
معنی
١ - خدا کی راہ میں خرچ کر دینا۔ "اپنی دولت زیادہ تر مدینے کے باہر مکے، کوفے اور بصرے میں لٹائی۔" ( ١٩١٧ء، حیات مالک، ٥ ) ٢ - بخش دینا، بانٹنا، بخشش کر دینا۔ کیا منعموں کی دولت، کیا زاہدوں کا تقویٰ جو گنج تو نے کاتا اس کو لٹا کے چھوڑا ( ١٩١٤ء، حالی، کلیات نظم حالی، ٦٢:٢ ) ٣ - اپنا مال ضائع کرنا، روپیہ برباد کرنا، اڑانا، روپیہ پیسہ بے جا صرف کرنا۔ ڈکیتی اور تجارت میں تفاوت ہے فقط اتنا یہ گٹھری کی لٹائی ہے وہ پاکٹ کی کٹائی ہے ( ١٩٨٢ء، ط ظ، ١١٦ ) ٤ - نچھاور کرنا، وارنا۔ موتی سارے ان آنکھوں کے اس پر ہی لٹائے ہیں میں نے ( ١٩٧٦ء، زیر آسمان، ٤٧ )
اشتقاق
پراکرت زبان سے ماخوذ فعل 'لوٹنا' کا تعدید 'لٹانا' اردو میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٣٦ء کو "ریاض البحر" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - خدا کی راہ میں خرچ کر دینا۔ "اپنی دولت زیادہ تر مدینے کے باہر مکے، کوفے اور بصرے میں لٹائی۔" ( ١٩١٧ء، حیات مالک، ٥ )