لٹنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - تباہ ہونا، برباد ہونا۔  یہ ذکر تھا جو طبل بجا فتح کا ناگاہ چلائے حرم لٹ گئی بنت اسداللہ      ( ١٨٧٤ء، انیس، مرثی، ١١٣:١ ) ٢ - نثار کرنا، روپیہ پیسہ صدقے کے طور پر سر پر سے وارا جانا۔ "برات کی آمد کی دھوم، نوشاہ پر جواہر لٹتا ہوا۔"      ( ١٨٩٢ء، طلسم ہوشربا، ٤٠:٦ ) ٣ - لوٹا جانا، مال و اسباب چھینا جانا۔ "صبح لٹنے والے حضرات کے شانہ بشانہ بیٹھ کر اومنی بس میں سفر کرتے۔"      ( ١٩٨٨ء، تبسم زیر لب، ١٨ ) ٤ - بے رونق ہو جانا، ویران ہونا۔  رخ پر ہوائیاں تھیں قمر کے چھٹی ہوئیں وہ ابر تر کے ہاتھ بہاریں لٹی ہوئیں      ( ١٩٢٩ء، مطلع انوار، ١٣٢ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ 'لوٹنا' کا فعل لازم 'لٹنا' اردو میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٣٨ء کو "چندر بدن و مہیار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - نثار کرنا، روپیہ پیسہ صدقے کے طور پر سر پر سے وارا جانا۔ "برات کی آمد کی دھوم، نوشاہ پر جواہر لٹتا ہوا۔"      ( ١٨٩٢ء، طلسم ہوشربا، ٤٠:٦ ) ٣ - لوٹا جانا، مال و اسباب چھینا جانا۔ "صبح لٹنے والے حضرات کے شانہ بشانہ بیٹھ کر اومنی بس میں سفر کرتے۔"      ( ١٩٨٨ء، تبسم زیر لب، ١٨ )