لٹک
معنی
١ - لٹکنے کی کیفیت، لٹکاؤ، لٹکنے کا حسن، لٹکنے کی آن بان، بانکپن۔ "انشا کا کہنا ہے کہ ایسی بحروں میں ایک لٹک ہوتی ہے۔" ( ١٩٧٠ء، برش قلم، ١٧ ) ٢ - لٹکنے کا سہارا، وہ چیز جس میں کوئی چیز لٹکے یا لٹکائی جائے۔ "جب چمگادڑ کے پنجوں سے اپنی لٹک چھوٹ جاتی ہے تو وہ چیخ مار کر ادھر ادھر اڑتا ہے۔" ( ١٩٣٣ء، ریاست، ذاکر حسین، ١٣١ ) ٣ - چٹک لٹک، تازو انداز، آن بان، ادا، بانکپن۔ کسی لچک دھائی کمر نے دم خرام کیسی لٹک سے لے کے چلی زلف یار دل ( ١٨٩٧ء، دیوان مائل، ١٢٠ ) ٤ - یک گونہ مسرت یا فرحت کی چمک، ترنگ، امنگ، موج، لہر، انداز معشوقانہ۔ "صبح اٹھے تو چہرے پر ایک خاص طرح کی سوجھ بوجھ یا نیچ اونچ اور چال ڈھال میں ایک خاص طرح کی لٹک نظر آئی۔" ( ١٩٥٦ء، شیخ نیازی، ٧٩ ) ٥ - محبت، دل بستگی۔ لٹک باقی ہے اب تک گو تری محفل میں بیٹھا ہوں کہ رہ رہ کر خیال آتا ہے جوہر کو بیاباں کا ( ١٩٠٨ء، مخزن، لاہور، جنوری، ٧١ ) ٧ - دیوانگی، مجذوبانہ کیفیت۔ "ایک حقیر و ناتواں چیونٹی کو حرکت و عمل کی لٹک نے عظیم الشان اور بلند و بالا پہاڑ سے بھی اونچا مقام عطا کر دیا۔" ( ١٩٨٨ء، فاران، کراچی، نومبر، ١٩ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ فعل 'لٹکنا' کا حاصل مصدر 'لٹک' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧١٣ء کو "دیوان فائز دہلوی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - لٹکنے کی کیفیت، لٹکاؤ، لٹکنے کا حسن، لٹکنے کی آن بان، بانکپن۔ "انشا کا کہنا ہے کہ ایسی بحروں میں ایک لٹک ہوتی ہے۔" ( ١٩٧٠ء، برش قلم، ١٧ ) ٢ - لٹکنے کا سہارا، وہ چیز جس میں کوئی چیز لٹکے یا لٹکائی جائے۔ "جب چمگادڑ کے پنجوں سے اپنی لٹک چھوٹ جاتی ہے تو وہ چیخ مار کر ادھر ادھر اڑتا ہے۔" ( ١٩٣٣ء، ریاست، ذاکر حسین، ١٣١ ) ٤ - یک گونہ مسرت یا فرحت کی چمک، ترنگ، امنگ، موج، لہر، انداز معشوقانہ۔ "صبح اٹھے تو چہرے پر ایک خاص طرح کی سوجھ بوجھ یا نیچ اونچ اور چال ڈھال میں ایک خاص طرح کی لٹک نظر آئی۔" ( ١٩٥٦ء، شیخ نیازی، ٧٩ ) ٧ - دیوانگی، مجذوبانہ کیفیت۔ "ایک حقیر و ناتواں چیونٹی کو حرکت و عمل کی لٹک نے عظیم الشان اور بلند و بالا پہاڑ سے بھی اونچا مقام عطا کر دیا۔" ( ١٩٨٨ء، فاران، کراچی، نومبر، ١٩ )