لٹکنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - آویزاں ہونا، معلق ہونا، ٹنگنا۔ "آہنی کیبن کی چھت سے لٹکتا ہوا بہت بڑا بلب بڑی بے دردی سے ہر چیز پر چمکتا۔"      ( ١٩٩٣ء، قومی زبان، کراچی، نومبر، ٥٣ ) ٢ - اٹھلاتے ہوئے چلنا، اٹھلانا، مٹکتے ہوئے چلنا۔  سرو و تدرو دونوں پھر آپ میں نہ آئے گلزار میں چلا تھا وہ شوخ ٹک لٹک کر      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ١٨٨ ) ٣ - منتظر رہنا، امیدوار رہنا، راہ تکنا، ٹھہرنا۔ "کانفرس کے درمیانی وقفے کے انتظار میں لٹکنا پڑا۔"      ( ١٩٨٧ء، آجاؤ افریقہ، ٦٦ ) ٥ - ڈوبنے کے قریب ہونا (آفتاب وغیرہ کا)۔ "شام ہونے کو ابھی تھوڑی دیر باقی ہے آفتاب مغربی کنارے پر بہت لٹک آیا ہے دھوپ زرد پڑتی جاتی ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، شرر، سفر نامۂ ہستی، ٣٣:٢ ) ٦ - رکنا، اٹکنا، التوا میں رہنا۔ "اس کے علمی مسائل بھی آج تک لٹکتے چلے آرہے ہیں۔"      ( ١٩٤٩ء، نکتہ راز، ٦٣ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ فعل 'لٹکانا' کا لازم 'لٹکنا' اردو میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٢٥ء کو "سیف الملوک و بدیع الجمال" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آویزاں ہونا، معلق ہونا، ٹنگنا۔ "آہنی کیبن کی چھت سے لٹکتا ہوا بہت بڑا بلب بڑی بے دردی سے ہر چیز پر چمکتا۔"      ( ١٩٩٣ء، قومی زبان، کراچی، نومبر، ٥٣ ) ٣ - منتظر رہنا، امیدوار رہنا، راہ تکنا، ٹھہرنا۔ "کانفرس کے درمیانی وقفے کے انتظار میں لٹکنا پڑا۔"      ( ١٩٨٧ء، آجاؤ افریقہ، ٦٦ ) ٥ - ڈوبنے کے قریب ہونا (آفتاب وغیرہ کا)۔ "شام ہونے کو ابھی تھوڑی دیر باقی ہے آفتاب مغربی کنارے پر بہت لٹک آیا ہے دھوپ زرد پڑتی جاتی ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، شرر، سفر نامۂ ہستی، ٣٣:٢ ) ٦ - رکنا، اٹکنا، التوا میں رہنا۔ "اس کے علمی مسائل بھی آج تک لٹکتے چلے آرہے ہیں۔"      ( ١٩٤٩ء، نکتہ راز، ٦٣ )