لپکنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - تیزی سے قدم اٹھا کر چلنا، جلدی جلدی کسی طرف بڑھنا، دوڑنا، جھپٹنا۔ "وہ خوشی سے پکارتی ہوئی لپکی اور بیٹے کو آغوش میں بھرکر سینے سے لگا لیا۔"      ( ١٩٩٠ء، بھولی بسری کہانیاں، مصر، ٢١٥ ) ٢ - بھڑکنا، بڑھنا۔ "آگ کے شعلوں کے ساتھ لپکی ہوئی ہولے ہولے بجھتی ہوئی، انگاروں کی طرح دہکتی ہوئی۔"      ( ١٩٨٨ء، اپنا اپنا جہنم، ٩١ ) ٣ - چھیننا، اپنے قبضے میں لانا۔ "سلطنت مغلیہ کے ٹکڑے اڑے تو ان ٹکڑوں کے لپکنے اور پکڑنے کے لیے بڑی چھینا چھپٹی ہوئی۔"      ( ١٩٠٤ء، آئین قیصری، ٩٨ ) ٥ - (پھوڑے یا زخم وغیرہ کا) ٹیس کرنا، تپکنا۔  ہوتا تھا گاہ گاہے محسوس درد آگے اب دل جگر ہمارے پھوڑے سے ہیں لپکتے      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٦٤٠ ) ٦ - اچھلنا، پھدکنا، دھڑکنا، حرکت کرنا، مرتعش ہونا (نبض وغیرہ کے لیے مستعمل)۔ "پیڑیاں ہونٹوں پر بندھی تھیں، کنپٹیاں لپکتی تھیں۔"      ( ١٨٨٢ء، طلسم ہوشربا، ٤:١ ) ٧ - (شعلے یا بجلی وغیرہ کا) چمکنا، تڑپنا، بھڑکنا، گرمی سے جلانا، آنچ کا تیز ہونا۔  شعلہ سا جیسے ساغر مے سے لپک اٹھا بھڑکی وہ دل کی پیاس کہ پیالہ جھلک اٹھا      ( ١٩٥٨ء، تارپیراہن، ٤٦ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اسم 'لپک' کے ساتھ نا بطور لاحقۂ مصدر لگانے سے 'لپکنا' اردو میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تیزی سے قدم اٹھا کر چلنا، جلدی جلدی کسی طرف بڑھنا، دوڑنا، جھپٹنا۔ "وہ خوشی سے پکارتی ہوئی لپکی اور بیٹے کو آغوش میں بھرکر سینے سے لگا لیا۔"      ( ١٩٩٠ء، بھولی بسری کہانیاں، مصر، ٢١٥ ) ٢ - بھڑکنا، بڑھنا۔ "آگ کے شعلوں کے ساتھ لپکی ہوئی ہولے ہولے بجھتی ہوئی، انگاروں کی طرح دہکتی ہوئی۔"      ( ١٩٨٨ء، اپنا اپنا جہنم، ٩١ ) ٣ - چھیننا، اپنے قبضے میں لانا۔ "سلطنت مغلیہ کے ٹکڑے اڑے تو ان ٹکڑوں کے لپکنے اور پکڑنے کے لیے بڑی چھینا چھپٹی ہوئی۔"      ( ١٩٠٤ء، آئین قیصری، ٩٨ ) ٦ - اچھلنا، پھدکنا، دھڑکنا، حرکت کرنا، مرتعش ہونا (نبض وغیرہ کے لیے مستعمل)۔ "پیڑیاں ہونٹوں پر بندھی تھیں، کنپٹیاں لپکتی تھیں۔"      ( ١٨٨٢ء، طلسم ہوشربا، ٤:١ )

اصل لفظ: لپک