لچھن

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - آثار، نشان، علامت، شناخت جس سے کسی شخص کے حالات یا انجام کا اندازہ ہو سکے بیشتر جمع کے طور پر مستعمل۔ "ہندوستان کی سب بولیوں میں کوئی ایک لچھن ایسا پایا جاتا تھا جس پر ان میں سے ہر ایک کو پراکرت کہا گیا۔"      ( ١٩٧٥ء، اردو کی کہانی، ١٦ ) ٢ - علامت، نشانی، چال ڈھال، طور طریق، عادت، خصلت، اعمال کرنی، کرتوت (عموماً برے معنوں میں مستعمل)۔ "واقعی امراء کے یہی لچھن ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٨٨ء، تبسم زیر لب، ٧٧ ) ٤ - گن، وصف، خوبی، اچھائی، صفت، بڑائی۔ "یہ گن اور یہ لچھن خالی جانے والے تھوڑے ہی ہیں۔"      ( ١٩١٨ء، سراب مغرب، ٤ ) ٥ - رنگ روپ، رونق، حسن۔  کہتی ہوں چک کسوٹی رنگ و روپ جو پرکھنے پیو سور سا جھلکتا بتیس لچھن میں جم جم      ( ١٦٧٢ء، علی عادل شاہ ثانی، کلیات، ١٣٣ ) ٦ - اقبال۔  جو اسباب صدقے کے کیجے بہم تو لچھن بڑھیں رام جی کی قسم      ( ١٨٩٣ء، قصہ ماہ و اختر پری پیکر، ١٤ )

اشتقاق

اصلاً پراکرت زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں پراکرت سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آثار، نشان، علامت، شناخت جس سے کسی شخص کے حالات یا انجام کا اندازہ ہو سکے بیشتر جمع کے طور پر مستعمل۔ "ہندوستان کی سب بولیوں میں کوئی ایک لچھن ایسا پایا جاتا تھا جس پر ان میں سے ہر ایک کو پراکرت کہا گیا۔"      ( ١٩٧٥ء، اردو کی کہانی، ١٦ ) ٢ - علامت، نشانی، چال ڈھال، طور طریق، عادت، خصلت، اعمال کرنی، کرتوت (عموماً برے معنوں میں مستعمل)۔ "واقعی امراء کے یہی لچھن ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٨٨ء، تبسم زیر لب، ٧٧ ) ٤ - گن، وصف، خوبی، اچھائی، صفت، بڑائی۔ "یہ گن اور یہ لچھن خالی جانے والے تھوڑے ہی ہیں۔"      ( ١٩١٨ء، سراب مغرب، ٤ )

جنس: مذکر