لڑائی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ہاتھا پائی، مارپیٹ، کشتم کشتا، گتھم گتھا۔ "گلی گلی بھی تیری ہی جہاں لڑائی ہوئی ہے۔"    ( ١٩١٠ء، لڑکیوں کی انشا، ٥٢ ) ٢ - (فوجوں یا قوموں کی) جنگ، معرکہ آرائی، رزم۔ "مولوی تویہ بتا کہ لڑائی ہو رہی ہے یا نہیں ہو رہی۔"    ( ١٩٨٧ء، آخری آدمی، ١٣٠ ) ٣ - کشتی، زور آزمائی، مقابلہ۔ "تب سے اب تک میری اور زرد کتے کی لڑائی چلی آتی ہے۔"    ( ١٩٨٧ء، آخری آدمی، ٤٢ ) ٤ - تکرار، جھگڑا، تو تو میں میں۔ "سب ہی بچے ممی اور ڈیڈی کی لڑائی سے گھبرا کر چلے گئے تھے۔"      ( ١٩٨٧ء، روز کا قصہ، ٨٩ ) ٥ - دشمنی، خصومت، نزاع، بیر، عداوت، رنجش، بگاڑ۔  قہر تھا میرا مسکرا دینا میل کے بعد پھر لڑائی ہے      ( ١٩٤٥ء، نو بہاراں، ٧٩ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ 'لڑنا' کا حاصل مصدر 'لڑائی' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہاتھا پائی، مارپیٹ، کشتم کشتا، گتھم گتھا۔ "گلی گلی بھی تیری ہی جہاں لڑائی ہوئی ہے۔"    ( ١٩١٠ء، لڑکیوں کی انشا، ٥٢ ) ٢ - (فوجوں یا قوموں کی) جنگ، معرکہ آرائی، رزم۔ "مولوی تویہ بتا کہ لڑائی ہو رہی ہے یا نہیں ہو رہی۔"    ( ١٩٨٧ء، آخری آدمی، ١٣٠ ) ٣ - کشتی، زور آزمائی، مقابلہ۔ "تب سے اب تک میری اور زرد کتے کی لڑائی چلی آتی ہے۔"    ( ١٩٨٧ء، آخری آدمی، ٤٢ ) ٤ - تکرار، جھگڑا، تو تو میں میں۔ "سب ہی بچے ممی اور ڈیڈی کی لڑائی سے گھبرا کر چلے گئے تھے۔"      ( ١٩٨٧ء، روز کا قصہ، ٨٩ )

اصل لفظ: لڑنا
جنس: مؤنث