لڑانا
معنی
١ - جھگڑا کرانا، مار پیٹ کرنا (دو یا زیادہ آدمیوں یا جانوروں کو) آپس میں بھڑا دینا۔ "ہاتھی، اونٹ. بارہ سنگھے.تیتر بٹیر بھی لڑائے جاتے تھے۔" ( ١٩٨٨ء، لکھنویات ادب، ٣ ) ٢ - باہم فساد کرانا، اختلاف پیدا کرنا، نزاع پیدا کرانا۔ آنکھ اوس شوخ نے ہر اک سے لڑا کر جرات ہم کو سب سے یہ لڑایا ہے کہ جی جانے ہے ( ١٨٠٩ء، جرأت، کلیات، ٢٣٨ ) ٤ - کشتی کرانا، زور کرانا، مقابلہ کرانا۔ "میں آج اکھاڑے پر نہیں آؤں گا تم سب کو لڑا دینا تاکہ ناغہ نہ ہو۔" ( ١٩٧٨ء، مہذب اللغات، ١٥٣:١١ ) ٦ - بدکلامی کرنا، دو بدو کرنا، ترکی بہ ترکی جواب دینا۔ ہم تم چلیں جو ساتھ تو مٹ جائے رنگ باغ گل سے رخ آپ لالہ سے بندہ لڑائے داغ ( ١٨٧٢ء، عاشق لکھنوی، فیض نشاں، ٩٨ ) ٧ - [ کنایۃ ] دو چیزوں کو باہم ٹکرانا۔ پہونچتی ہے شکست اک دن بتوں سے شیشۂ دل پر لڑایا جاتا ہے یہ آبگینہ زور پتھر سے ( ١٨٤٢ء، دیوان رند، ١٧٩:١ ) ١٠ - شریک کرنا، ملانا، ساجھا کرنا (روپے پیسے سے)۔ "چار چار پیسے لڑا کر سودا کھایا۔" ( ١٩٠١ء، فرہنگ آصفیہ، ١٨٦:٤ ) ١١ - [ قمار باز ] دانو پر لگانا، دانو پر رکھنا۔ (ماخوذ: فرہنگ آصفیہ، جامع اللغات)۔ ١٢ - [ ریاضی ] مطابق کرنا، میزان کرنا۔ (ماخوذ جامع اللغات)۔ ١٣ - [ پتنگ باز ] پیچ کرانا، گھسا بازی کرانا۔ "اپنے ہاتھ سے پتنگ بناتے تھے اور خود لڑاتے تھے۔" ( ١٨٩٦ء، سیرت فریدیہ، ٤٣ ) ١٤ - آزمانا، کرنا۔ "انہوں نے. کہا کوئی تگڑم لڑانا پڑے گی۔" ( ١٩٨٧ء، روز کا قصہ، ٨٨ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اسم 'لڑنا' کا تعدیہ 'لڑانا' اردو میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٦٥ء کو "علی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - جھگڑا کرانا، مار پیٹ کرنا (دو یا زیادہ آدمیوں یا جانوروں کو) آپس میں بھڑا دینا۔ "ہاتھی، اونٹ. بارہ سنگھے.تیتر بٹیر بھی لڑائے جاتے تھے۔" ( ١٩٨٨ء، لکھنویات ادب، ٣ ) ٤ - کشتی کرانا، زور کرانا، مقابلہ کرانا۔ "میں آج اکھاڑے پر نہیں آؤں گا تم سب کو لڑا دینا تاکہ ناغہ نہ ہو۔" ( ١٩٧٨ء، مہذب اللغات، ١٥٣:١١ ) ١٠ - شریک کرنا، ملانا، ساجھا کرنا (روپے پیسے سے)۔ "چار چار پیسے لڑا کر سودا کھایا۔" ( ١٩٠١ء، فرہنگ آصفیہ، ١٨٦:٤ ) ١٣ - [ پتنگ باز ] پیچ کرانا، گھسا بازی کرانا۔ "اپنے ہاتھ سے پتنگ بناتے تھے اور خود لڑاتے تھے۔" ( ١٨٩٦ء، سیرت فریدیہ، ٤٣ ) ١٤ - آزمانا، کرنا۔ "انہوں نے. کہا کوئی تگڑم لڑانا پڑے گی۔" ( ١٩٨٧ء، روز کا قصہ، ٨٨ )