لڑکا

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - چھوٹا، ناتجربہ کار، نادان، نا سمجھ۔  نادان کی محبت میں ہے سو طرح کا دھڑکا دل دوں کسی لڑکے کو میں ایسا نہیں لڑکا      ( ١٨٥٨ء، امانت، دیوان، ٢٣ ) ١ - بچہ، طفل، چھوکرا، بالک۔ "شیروانی پہنے ایک لمبے بالوں والا دبلا پتلا لڑکا کھلے دروازے میں جا کھڑا ہوا۔"      ( ١٩٩٠ء، چاندنی بیگم، ٣٩ ) ٢ - بیٹا، فرزند، اولاد۔ "سنا تھا اچھے گھر کا لڑکا تھا، انسان کا دماغ ٹوٹتے کیا دیر لگتی ہے۔"      ( ١٩٩٠ء، چاندنی بیگم، ٢٩ )

اشتقاق

سنسکرت کے اصل لفظ 'لٹ+اک+کا' سے ماخوذ لڑکا اردو میں بطور اسم اور گا ہے بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بچہ، طفل، چھوکرا، بالک۔ "شیروانی پہنے ایک لمبے بالوں والا دبلا پتلا لڑکا کھلے دروازے میں جا کھڑا ہوا۔"      ( ١٩٩٠ء، چاندنی بیگم، ٣٩ ) ٢ - بیٹا، فرزند، اولاد۔ "سنا تھا اچھے گھر کا لڑکا تھا، انسان کا دماغ ٹوٹتے کیا دیر لگتی ہے۔"      ( ١٩٩٠ء، چاندنی بیگم، ٢٩ )

اصل لفظ: لٹ+اک+کا