لڑکھڑاہٹ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ڈگمگاہٹ، تزلزل، لغزش۔ "خیر حافظے کی لڑکھڑاہٹ ہم سب سے ہو جاتی ہےپھر شعر ایسا ہے کہ ہر آدمی کو اپنا معلوم ہوتا ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، بازگشت و باز یافت، ١١٥ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ فعل 'لڑکھرانا' کا حاصل مصدر 'لڑکھڑاہٹ' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٧٤ء کو "اثبات و نفی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ڈگمگاہٹ، تزلزل، لغزش۔ "خیر حافظے کی لڑکھڑاہٹ ہم سب سے ہو جاتی ہےپھر شعر ایسا ہے کہ ہر آدمی کو اپنا معلوم ہوتا ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، بازگشت و باز یافت، ١١٥ )

اصل لفظ: لڑکھڑانا
جنس: مؤنث