لڑکی
معنی
١ - چھوکری، بچی۔ "شکر ہے، اکیلی لڑکی ہلکان ہوئی جارہی تھی، رانی دلہن نے کہا۔" ( ١٩٩٠ء، چاندنی بیگم، ٤٠٤ ) ٢ - بیٹی، دختر۔ "بٹو باجی نے ان کی لڑکی کو اس کے بچپن کے بعد اب دیکھا۔" ( ١٩٩٠ء، چاندنی بیگم، ١٧ ) ٣ - عروس، دلہن (شادی یا عروسی کے حوالے سے)۔ "وکی بھی کتنے ہوش مند ہو گئے، مقطع چقطع "لڑکی" کے بزرگ اور سرپرست، ذمے دار پابند وضع . انتظامات کے احکام صادر کریں گے۔" ( ١٩٩٠ء، چاندنی بیگم، ٤٠٥ ) ٤ - کنواری، دوشیزہ، بن بیاہی، باکرہ۔ "وہ بھولی سی پہاڑی لڑکی، خاموش، ذہین، بردباد۔" ( ١٩٩٠ء، چاندنی بیگم، ٣٩٤ ) ٥ - نادان، ناسمجھ، ناتجربہ کار، کم عمر۔ "دائی چلانے لگی کہ اے لڑکی یہ دماغ کا وقت نہیں ہے ملنے جلنے کا وقت ہے۔" ( ١٨٠٠ء، قصہ گل و ہرمز، ٩٩ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اسم 'لڑکا' کی اردو میں تانیث 'لڑکی' بطور اسم استعمال ہوتی ہے۔ ١٧٦٩ء کو "آخرگشت" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - چھوکری، بچی۔ "شکر ہے، اکیلی لڑکی ہلکان ہوئی جارہی تھی، رانی دلہن نے کہا۔" ( ١٩٩٠ء، چاندنی بیگم، ٤٠٤ ) ٢ - بیٹی، دختر۔ "بٹو باجی نے ان کی لڑکی کو اس کے بچپن کے بعد اب دیکھا۔" ( ١٩٩٠ء، چاندنی بیگم، ١٧ ) ٣ - عروس، دلہن (شادی یا عروسی کے حوالے سے)۔ "وکی بھی کتنے ہوش مند ہو گئے، مقطع چقطع "لڑکی" کے بزرگ اور سرپرست، ذمے دار پابند وضع . انتظامات کے احکام صادر کریں گے۔" ( ١٩٩٠ء، چاندنی بیگم، ٤٠٥ ) ٤ - کنواری، دوشیزہ، بن بیاہی، باکرہ۔ "وہ بھولی سی پہاڑی لڑکی، خاموش، ذہین، بردباد۔" ( ١٩٩٠ء، چاندنی بیگم، ٣٩٤ ) ٥ - نادان، ناسمجھ، ناتجربہ کار، کم عمر۔ "دائی چلانے لگی کہ اے لڑکی یہ دماغ کا وقت نہیں ہے ملنے جلنے کا وقت ہے۔" ( ١٨٠٠ء، قصہ گل و ہرمز، ٩٩ )