لکنت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ہکلاپن، تتلاہٹ، توتلاپن نیز خوف یا گھبراہٹ کے باعث رک رک کر بولنا، ہکلاہٹ، صاف لفظ ادا نہ ہو سکنے کی کیفیت۔ "زبان میں لکنت جو لوگوں کو کہتا تھا کہ باپ کے رعب داب کی وجہ سے بچپن میں پیدا ہو گئی تھی۔"      ( ١٩٩٠ء، چاندنی بیگم، ٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٥٦ء کو "دیوان فدا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہکلاپن، تتلاہٹ، توتلاپن نیز خوف یا گھبراہٹ کے باعث رک رک کر بولنا، ہکلاہٹ، صاف لفظ ادا نہ ہو سکنے کی کیفیت۔ "زبان میں لکنت جو لوگوں کو کہتا تھا کہ باپ کے رعب داب کی وجہ سے بچپن میں پیدا ہو گئی تھی۔"      ( ١٩٩٠ء، چاندنی بیگم، ٧ )

اصل لفظ: لکن
جنس: مؤنث