لکھا
معنی
١ - رقم کرنا، تحریر کرنا، قلمبند کرنا، تحریر میں لانا، تراکیب میں مستعمل۔ نام بے شیر کا جس وقت لکھا صغرا نے رکھ کے خط ہاتھ سے دل تھام لیا صغرا نے ( ١٨٩١ء، تعشق (مہذب اللغات) ) ٢ - لکھا ہوا کی جگہ، نوشتہ، رقم زدہ، تحریر شدہ، مرقوم۔ پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا ( ١٨٦٩ء، غالب، دیوان، ١٥٩ ) ٣ - حکم قضا و قدر، سرنوشت، تقدیر، وہ امر جسے بہر حال ہونا ہے۔ برے لکھے کو میرے بے نظیر اچھا کرے مولا نہیں تو کوئی پیٹے گا کہاں تک ان ھیروں کو ( ١٩٣٢ء، بے نظیر، کلام بے نظیر، ١٤٨ ) ٥ - خط، دستخط، تحریر۔ کہ سکتے ہیں لکھے کو بھلا اپنے برا ہم سن کر نہ کہے دوست یہ مکتوب ہے میرا ( ١٨٨٨ء، مضمو نہائے دلکش، ٢٥ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ فعل 'لکھنا' کا ماضی 'لکھا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔