لکھنوی

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - لکھنؤ سے تعلق رکھنے والا، لکھنؤ کا۔ "مرزا امان علی خاں لکھنوی کی داستانِ امیر حمزہ کی اہمیت یہ ہے کہ . نو لکشور پریس سے شائع اور مقبول ہوتا رہا۔"      ( ١٩٨٨ء، دبستان لکھنؤ کے داستانی ادب کا ارتقا، ٣٤ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم علم 'لکھنؤ' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'لکھنوی' بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٨٨ء کو "دبستانِ لکھنؤ کے داستانی ادب کا ارتقاء" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لکھنؤ سے تعلق رکھنے والا، لکھنؤ کا۔ "مرزا امان علی خاں لکھنوی کی داستانِ امیر حمزہ کی اہمیت یہ ہے کہ . نو لکشور پریس سے شائع اور مقبول ہوتا رہا۔"      ( ١٩٨٨ء، دبستان لکھنؤ کے داستانی ادب کا ارتقا، ٣٤ )