لگ

قسم کلام: حرف جار

معنی

١ - تک تلک۔  حویلی اوس کی لوہے کی ہے اے یار مگر یورپ کے لگ توٹی ہے دیوار      ( ١٨٤٠ء، لوائے غیب، ٨ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ ہے۔ اردو زبان میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور حرف استعمال ہوتا ہے۔ ١٢٦٥ء کو "تاریخ ادب اردو" کے حوالے سے بابا فرید گنج شکر کے ہاں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔