لگائی

قسم کلام: صفت نسبتی ( واحد )

معنی

١ - لگائی ہوئی، بھڑکائی ہوئی (آگ)۔  بہر خدا یہ اپنی لگائی بجھایئے کب تک تمہارے واسطے کوئی واسطے کوئی بشر جلے      ( ١٨٣٦ء، ریاض البحر، ٢١٧ ) ٢ - آگ لگانا یا بھڑکانا۔  مہندی مل کر جو ہاتھ دھوئے ہیں یہ لگائی ہے وہ بجھائی ہے      ( ١٨٩١ء، عاقل، دیوان، ١٢٩ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اردو مصدر 'لگانا' سے مشتق اسم صفت 'لگا' کے ساتھ 'ئی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'لگائی' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٣٦ء کو "ریاض البحر" میں مستعمال ملتا ہے۔

اصل لفظ: لگانا