لہر
معنی
١ - پانی کا وہ سلسلہ جو ہوا کی تحریک سے سطح آب پر نمودار ہوتا ہے، موج، ہلکورا۔ "یکبارگی زور کی لہر آئی اور اسے اچھال کر کنارے پر ڈالتی پلٹ گئی۔" ( ١٩٩٠ء، بھولی بسری کہانیاں، مصر، ١٦٤:١ ) ٢ - ہوا یا آواز وغیرہ کی موج۔ کبھی خوشبو کی اگر لہر سی پاتا ہوں فضا میں تو سمجھتا ہوں کہ تم، بال سکھاتے ہو ہوا میں ( ١٩٢٤ء، افکار سلیم، ١٨١ ) ٣ - امنگ، ترنگ، من کی موج، جوش۔ "بے اعتمادی کی ایک پوشیدہ لہر برابر رواں رہی۔" ( ١٩٨٦ء، برصغیر میں اسلامی کلچر، ٥٠ ) ٤ - سرور، بے خودی، حال، وجد۔ نشۂ حسن کی یہ لہر الٰہی توبہ تشنہ کام آنکھوں ہی آنکھوں میں پئے جاتے ہیں ( ١٩٥٧ء، یگانہ، گنجینہ، ٥١ ) ٥ - کیفیت، حالت۔ "حفیظ کے کلام میں رنگینی کی یہ لہر عموماً موجود نہیں۔" ( ١٩٧٦ء، سخن ور نئے اور پرانے، ٢١١ ) ٦ - خواہش آب فرات کی نہیں اب تشنگی میں لہر جنت میں شہد و شیر کی خالق دکھائے نہر ( ١٨٧٤ء، انیس، مراثی، ٢٤١:١ ) ٧ - خیال کی رو، وہم، دھیان نیز باد۔ کہاں سے آتی ہے رونے کی لہر خاطر میں برنگ موج اگر روح بیقرار نہیں ( ١٨٩٦ء، تجلیات عشق، ١٥٧ ) ٨ - کپکپی، تھرتھری، لرزش اعضا کی وہ جنبش جو کتے کے کاٹنے یا سانپ کے ڈسنے سے ہوتی ہے، کسی مرض یا زہر کے اثر وغیرہ کا دور، بیماری کا ابھار۔ "زہر اتنا قاتل تھا کہ دوبارہ لہر نہ آئی۔" ( ١٩٣٦ء، پریم چند، پریم چالیسی، ١٢:١ ) ٩ - [ طبیعیات ] اہتزاز، ارتعاش۔ "موزیک پلیٹ P پر ہر دانہ اپنی برق لہر (Electric Pulse) پیدا کرتا ہے۔" ( ١٩٧٠ء، جدید طبیعیات، ٤٤٨ ) ١٠ - زیر و بم، آواز کا اتار چڑھاؤ۔ "صرف اس کے تقریری پہلو کے سامنے رکھا ہے اور اس سلسلے میں سر لہر پر بطور خاص زور دیا ہے۔" ( ١٩٨٨ء، نئی اردو قواعد، ١٣ ) ١١ - سپیروں کی اصطلاح، مراد: پونگی کی ایک خاص لے جس پر سانپ عاشق ہوتا ہے۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 164:8) ١٢ - کشیدے کی دھاری، چھینٹ وغیرہ کی پٹڑی، بیل، لہریا۔ "دائیں طرف کا حاشیہ کم چوڑا ہے، بائیں حاشیے سے تقریباً آدھا ہے، اس میں لہر یا بیل بنائی گئی ہے لہر کے پیٹے میں ڈنڈی اور پھول بنائے گئے ہیں۔" ( ١٩٨٩ء، قومی زبان، کراچی، فروی، ٩ ) ١٣ - گوٹے یا لچکے وغیرہ کی وہ محرف ٹنکائی جو رضائی یا دوپٹے پر ٹانکی جاتی ہے، بل دار ٹنکائی یا سلائی، لہریا۔ "تاگے سے لہر بنائی مگر تیپچی کی اس طرح کہ خانہ کمتی بڑھتی نہ ہو۔" ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٧٣ ) ١٤ - سبزے یا پودوں وغیرہ کی جنبش، کسی لچک دار چیز کا لہرانا، لہلہاہٹ۔ سنبل کی لہر سے نہ رہے پھر ہمیں مطلب یکدست جو تم کا کل خمدار دکھاؤ ( ١٨٤٠ء، کلیات ظفر، ١٩٣:١ ) ١٥ - ایکھ کے پودے، چھوٹے چھوٹے گنے۔ (فرہنگ آصفیہ) ١٦ - [ ادب ] مفہوم، معنی۔ "درد کے کلام میں سطح کے نیچے ایک دبی ہوئی لہر اور بھی نظر آتی ہے۔" ( ١٩٧٦ء، سخن ور نئے اور پرانے، ٣ ) ١٧ - دیوانگی، پاگل پن، جنون، خبط۔ (جامع اللغات، نوراللغات) ١٨ - جلن، سوزش، چومراہٹ، ٹیس۔ (فرہنگ آصفیہ، علمی اردو لغت)۔ ١٩ - شہوت کا جوش، چل، خرمستی، خواہش جماع۔ (ماخوذ: فرہنگ آصفیہ، مہذب اللغات)
اشتقاق
اصلاً سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں سنسکرت سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٤١ء کو "دیوان شاکر ناجی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - پانی کا وہ سلسلہ جو ہوا کی تحریک سے سطح آب پر نمودار ہوتا ہے، موج، ہلکورا۔ "یکبارگی زور کی لہر آئی اور اسے اچھال کر کنارے پر ڈالتی پلٹ گئی۔" ( ١٩٩٠ء، بھولی بسری کہانیاں، مصر، ١٦٤:١ ) ٣ - امنگ، ترنگ، من کی موج، جوش۔ "بے اعتمادی کی ایک پوشیدہ لہر برابر رواں رہی۔" ( ١٩٨٦ء، برصغیر میں اسلامی کلچر، ٥٠ ) ٥ - کیفیت، حالت۔ "حفیظ کے کلام میں رنگینی کی یہ لہر عموماً موجود نہیں۔" ( ١٩٧٦ء، سخن ور نئے اور پرانے، ٢١١ ) ٨ - کپکپی، تھرتھری، لرزش اعضا کی وہ جنبش جو کتے کے کاٹنے یا سانپ کے ڈسنے سے ہوتی ہے، کسی مرض یا زہر کے اثر وغیرہ کا دور، بیماری کا ابھار۔ "زہر اتنا قاتل تھا کہ دوبارہ لہر نہ آئی۔" ( ١٩٣٦ء، پریم چند، پریم چالیسی، ١٢:١ ) ٩ - [ طبیعیات ] اہتزاز، ارتعاش۔ "موزیک پلیٹ P پر ہر دانہ اپنی برق لہر (Electric Pulse) پیدا کرتا ہے۔" ( ١٩٧٠ء، جدید طبیعیات، ٤٤٨ ) ١٠ - زیر و بم، آواز کا اتار چڑھاؤ۔ "صرف اس کے تقریری پہلو کے سامنے رکھا ہے اور اس سلسلے میں سر لہر پر بطور خاص زور دیا ہے۔" ( ١٩٨٨ء، نئی اردو قواعد، ١٣ ) ١٢ - کشیدے کی دھاری، چھینٹ وغیرہ کی پٹڑی، بیل، لہریا۔ "دائیں طرف کا حاشیہ کم چوڑا ہے، بائیں حاشیے سے تقریباً آدھا ہے، اس میں لہر یا بیل بنائی گئی ہے لہر کے پیٹے میں ڈنڈی اور پھول بنائے گئے ہیں۔" ( ١٩٨٩ء، قومی زبان، کراچی، فروی، ٩ ) ١٣ - گوٹے یا لچکے وغیرہ کی وہ محرف ٹنکائی جو رضائی یا دوپٹے پر ٹانکی جاتی ہے، بل دار ٹنکائی یا سلائی، لہریا۔ "تاگے سے لہر بنائی مگر تیپچی کی اس طرح کہ خانہ کمتی بڑھتی نہ ہو۔" ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٧٣ ) ١٦ - [ ادب ] مفہوم، معنی۔ "درد کے کلام میں سطح کے نیچے ایک دبی ہوئی لہر اور بھی نظر آتی ہے۔" ( ١٩٧٦ء، سخن ور نئے اور پرانے، ٣ )