لہو

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - خون، رکت، دم۔ "فیض اپنی بولی میں بات کرتا ہے، اور پھر موقع محل مختلف، ان کے لہو کو وہ زر سرخ سے تشبیہ دیتا ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، فیضان فیض، ٥٦ ) ٢ - [ مجازا ]  اپنا یگانہ، ایک دادا یا باپ کی اولاد، قریبی رشتہ دار۔ (نوراللغات، فرہنگ آصفیہ)۔ ٣ - [ کنایۃ ]  خمیر، سرشت، فطرت۔  مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دلنوازی کا مروت حسن عالمگیر ہے مردان غازی کا      ( ١٩٣٥ء، بال جبریل، ٥٠ )

اشتقاق

ہندی زبان سے ماخوذ 'لوہو' کا مخفف 'لہو' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥١٨ء کو "دکنی ادب کی تاریخ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خون، رکت، دم۔ "فیض اپنی بولی میں بات کرتا ہے، اور پھر موقع محل مختلف، ان کے لہو کو وہ زر سرخ سے تشبیہ دیتا ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، فیضان فیض، ٥٦ )

جنس: مذکر