لہک

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - شعلہ، لپٹ، لاٹ۔  سمجھے ہوئے آتش گل کی لہک کو ہم مقصود بلبلوں کو جلانا ہے چند روز    ( ١٩٢٧ء، شاد عظیم آبادی، میخانۂ الہام، ١٦٢ ) ٢ - چمک، درخشندگی۔ (نوراللغات) ٣ - بے چینی کی کیفیت، اضطرار۔ "چال ایسی تھی کہ . گویا دائیں کو ایک من مانے ترچھے حساب سے بھی رواں ہیں، آرٹسٹ والی لہک حرکات میں مسلسل رہتی۔"    ( ١٩٩٠ء، قومی زبان، کراچی، مارچ، ٣٢ ) ٤ - وجد یا حال کی کیفیت، استغراق، کیف۔ "رنگ آمیزی، رنگینی . چمک دمک، لہک . یہ وہ محاسن ہیں جو فنون لطیفہ کو محبوب اور انبساط آفریں بناتے ہیں۔"    ( ١٩٥٨ء، تنقیدی نظریات، ٢٣٨ ) ٥ - ہوا سے سبزے اور شاخوں کے لہرانے کی کیفیت، لہلہاہٹ، بہار، لہکنا۔  بہار جل کے خزاں ہو، خزاں لہک کے بہار چمن میں ایسے شگوفے بھی چھوڑ سکتا ہوں      ( ١٩٤٣ء، شبنمستان، ١١٢ ) ٦ - خمیدگی، کجی، ٹیڑھاپن۔  کمر میں سانس لیتی یوں لہک ہے صبا سے شاخ گل میں جیوں لجک ہے      ( ١٧٧٤ء، مثنوی تصویر جاناں، ٤٤ ) ٧ - سرکو خوش آوازی کے ساتھ ادا کرنے کا عمل، موسیقی میں آواز کا اتار چڑھاؤ جو لہرانے کی کیفیت رکھتا ہے۔ "لہک: یعنی لہکتی ہوئی آواز نکلنا، یعنی سر کو لہکا کے ادا کرنا۔"      ( ١٩٢٧ء، نغمات الہند، ٤٠ ) ٨ - مہک، جھومنا، جذبہ، جوش۔ "چیری کے شگوفوں کی لہک میں میں سیدھی باہر آگئی۔"      ( ١٩٦١ء، سات سمندر پار، ١٦ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ 'لہکنا' کا حاصل مصدر 'لہک' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٥٥ء کو "دیوان یقین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - بے چینی کی کیفیت، اضطرار۔ "چال ایسی تھی کہ . گویا دائیں کو ایک من مانے ترچھے حساب سے بھی رواں ہیں، آرٹسٹ والی لہک حرکات میں مسلسل رہتی۔"    ( ١٩٩٠ء، قومی زبان، کراچی، مارچ، ٣٢ ) ٤ - وجد یا حال کی کیفیت، استغراق، کیف۔ "رنگ آمیزی، رنگینی . چمک دمک، لہک . یہ وہ محاسن ہیں جو فنون لطیفہ کو محبوب اور انبساط آفریں بناتے ہیں۔"    ( ١٩٥٨ء، تنقیدی نظریات، ٢٣٨ ) ٧ - سرکو خوش آوازی کے ساتھ ادا کرنے کا عمل، موسیقی میں آواز کا اتار چڑھاؤ جو لہرانے کی کیفیت رکھتا ہے۔ "لہک: یعنی لہکتی ہوئی آواز نکلنا، یعنی سر کو لہکا کے ادا کرنا۔"      ( ١٩٢٧ء، نغمات الہند، ٤٠ ) ٨ - مہک، جھومنا، جذبہ، جوش۔ "چیری کے شگوفوں کی لہک میں میں سیدھی باہر آگئی۔"      ( ١٩٦١ء، سات سمندر پار، ١٦ )

اصل لفظ: لہکنا
جنس: مؤنث