لیلا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - جلوہ، تماشا۔ "کمرے میں عجب لیلا تھی، روشنی اور سایوں کا سوانگ تھا، اجلی گدلی پر چھائیاں۔"      ( ١٩٨٦ء، نگار، کراچی، جولائی، ٣٨ ) ٢ - رہس، عیش و نشاط، سیر و تماشا، تفریح۔ "وہ صرف ایشور کی تفریح (لیلا) کا باعث ہے۔"      ( ١٩٤٥ء، تاریخ ہندی فلسفہ (ترجمہ)، ٤٨١:١ ) ٣ - تماشا، کرشمہ۔ "ہندو حکما نے خوب کہا ہے کہ یہ پریشر کی لیلا ہے۔"      ( ١٩٦١ء، عبدالحق، خطوط، ١٧٠ ) ٤ - [ موسیقی ]  ایک راگنی، لیلا چنیسر کے رومان کا گیت۔ "ذیل کی ١٧ راگنیاں عوامی موسیقی سے ماخوذ ہیں، ساموندی (ملاحوں کا گیت) . رانو، کاہوڑی (بنجاروں کا گیت) لیلا (لیلا چنیسر کے رومان کا گیت۔"      ( ١٩٦١ء، ہماری موسیقی، ٣٣ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو زبان میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٣٠ء کو "کلیات نظیر" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جلوہ، تماشا۔ "کمرے میں عجب لیلا تھی، روشنی اور سایوں کا سوانگ تھا، اجلی گدلی پر چھائیاں۔"      ( ١٩٨٦ء، نگار، کراچی، جولائی، ٣٨ ) ٢ - رہس، عیش و نشاط، سیر و تماشا، تفریح۔ "وہ صرف ایشور کی تفریح (لیلا) کا باعث ہے۔"      ( ١٩٤٥ء، تاریخ ہندی فلسفہ (ترجمہ)، ٤٨١:١ ) ٣ - تماشا، کرشمہ۔ "ہندو حکما نے خوب کہا ہے کہ یہ پریشر کی لیلا ہے۔"      ( ١٩٦١ء، عبدالحق، خطوط، ١٧٠ ) ٤ - [ موسیقی ]  ایک راگنی، لیلا چنیسر کے رومان کا گیت۔ "ذیل کی ١٧ راگنیاں عوامی موسیقی سے ماخوذ ہیں، ساموندی (ملاحوں کا گیت) . رانو، کاہوڑی (بنجاروں کا گیت) لیلا (لیلا چنیسر کے رومان کا گیت۔"      ( ١٩٦١ء، ہماری موسیقی، ٣٣ )

جنس: مؤنث