لیٹنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - دراز ہونا، سیدھا، کروٹ سے یا اوندھے ہو کر پڑنا، کمر سیدھی کرنا۔ "اور کبھی کھول اوس کا منہہ اوس مونہہ پر تکنا دیکھیے چنانچہ سب لوگ لیٹ گئے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق الفرائض، ١٤٦:١ ) ٢ - آرام کرنا، سونا۔ "کسی کی بہو بیٹی، یو اپنے گھر میں تلملتا وہ اپنے گھر میں لیٹی۔"      ( ١٦٣٥ء، سب رس، ٢٢٦ ) ٤ - اوندھا پڑنا، چت یا پٹ پڑنا۔  سو رہا یہ، وہ آکے لیٹ رہی بات کچھ شاہزادے نے نہ کہی      ( ١٧٩١ء، حسرت (جعفر علی)، طوطی نامہ، ١١٣ ) ٨ - [ مجازا ]  کاروبار جاری نہ رہنا، ٹھپ جانا، فیل ہو جانا۔ "اتنی سی رقم پر آپ کا کارخانہ لیٹ گیا۔"      ( ١٩٢١ء، خونی شہزادہ، ١٨٣ )

اشتقاق

ہندی سے ماخوذ 'لیٹ' کے ساتھ 'نا' بطور لاحقۂ مصدر لگانے سے 'لیٹنا' بنا۔ اردو میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دراز ہونا، سیدھا، کروٹ سے یا اوندھے ہو کر پڑنا، کمر سیدھی کرنا۔ "اور کبھی کھول اوس کا منہہ اوس مونہہ پر تکنا دیکھیے چنانچہ سب لوگ لیٹ گئے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق الفرائض، ١٤٦:١ ) ٢ - آرام کرنا، سونا۔ "کسی کی بہو بیٹی، یو اپنے گھر میں تلملتا وہ اپنے گھر میں لیٹی۔"      ( ١٦٣٥ء، سب رس، ٢٢٦ ) ٨ - [ مجازا ]  کاروبار جاری نہ رہنا، ٹھپ جانا، فیل ہو جانا۔ "اتنی سی رقم پر آپ کا کارخانہ لیٹ گیا۔"      ( ١٩٢١ء، خونی شہزادہ، ١٨٣ )

اصل لفظ: لیٹ