لیڈر
معنی
١ - سرِگروہ، رہنما، قائد، سرخیل۔ "لیڈر اپنی کٹ تبدیل کر کے ہمارے دروازے پر آگیا اور سوٹی بجا کر ہمیں جگانے لگا۔" ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ٥٣ ) ٢ - [ صحافت ] اداریہ، ادارتی نوٹ۔ "میں نے عشق کا جو مذاقیہ علاج بنایا تھا اس پر اپنے روزانہ اخبار میں ایک لیڈر کے ماتحت جرح و قدح کی۔" ( ١٩١٨ء، چٹکیاں اور گدگدیاں، ٥ )
اشتقاق
اصلاً انگریزی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں انگریزی سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٠٨ء کو "اساس الاخلاق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - سرِگروہ، رہنما، قائد، سرخیل۔ "لیڈر اپنی کٹ تبدیل کر کے ہمارے دروازے پر آگیا اور سوٹی بجا کر ہمیں جگانے لگا۔" ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ٥٣ ) ٢ - [ صحافت ] اداریہ، ادارتی نوٹ۔ "میں نے عشق کا جو مذاقیہ علاج بنایا تھا اس پر اپنے روزانہ اخبار میں ایک لیڈر کے ماتحت جرح و قدح کی۔" ( ١٩١٨ء، چٹکیاں اور گدگدیاں، ٥ )