مآثر
معنی
١ - عظیم آثار، کارہائے عظیم، علامات و نشانات۔ "معتمد خان کی تصنیف سے اقبال نامہ اور مرزا کا مگار مخاطب بہ عزت خان برادر زادہ عبداللہ خاں کی تالیف سے مآثر جہانگیری ہے۔" ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ٢:٦ ) ٢ - نشانیاں، یادگاریں۔ "پاکستان کی سیاسی تاریخ ابھی بسم اللہ کے مراحل میں ہے لیکن اس خطے کے تہذیبی مآثر کی عمر پانچ ہزار سال سے اوپر ہے۔" ( ١٩٦٢ء، میزان، ٩٢ ) ٤ - مرکبات میں بطور جزو دوم مستعمل، جیسے ظفر مآثر بمعنی فتح مند۔ "جناب کے خاطر فیض مآثر پر اچھی طرح ثابت ہے۔" ( ١٩٣٧ء، واقعاتِ اظفری (ترجمہ)، ٩١ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم 'مآثرہ' کی جمع ہے۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٧٤ء کو "نتائج المعانی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - عظیم آثار، کارہائے عظیم، علامات و نشانات۔ "معتمد خان کی تصنیف سے اقبال نامہ اور مرزا کا مگار مخاطب بہ عزت خان برادر زادہ عبداللہ خاں کی تالیف سے مآثر جہانگیری ہے۔" ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ٢:٦ ) ٢ - نشانیاں، یادگاریں۔ "پاکستان کی سیاسی تاریخ ابھی بسم اللہ کے مراحل میں ہے لیکن اس خطے کے تہذیبی مآثر کی عمر پانچ ہزار سال سے اوپر ہے۔" ( ١٩٦٢ء، میزان، ٩٢ ) ٤ - مرکبات میں بطور جزو دوم مستعمل، جیسے ظفر مآثر بمعنی فتح مند۔ "جناب کے خاطر فیض مآثر پر اچھی طرح ثابت ہے۔" ( ١٩٣٧ء، واقعاتِ اظفری (ترجمہ)، ٩١ )