ماؤف

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - (وہ عضو وغیرہ) جس کو صدمہ پہنچا ہو بے حس و حرکت، معطل۔ "میرے ہاتھ پیر بے جان ہو کر رہ گئے تھے اور دماغ بالکل ماؤف۔"      ( ١٩٩٨ء، افکار، کراچی، اپریل، ٥٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (وہ عضو وغیرہ) جس کو صدمہ پہنچا ہو بے حس و حرکت، معطل۔ "میرے ہاتھ پیر بے جان ہو کر رہ گئے تھے اور دماغ بالکل ماؤف۔"      ( ١٩٩٨ء، افکار، کراچی، اپریل، ٥٧ )

اصل لفظ: اوف