مائل

قسم کلام: اسم نکرہ ( واحد )

معنی

١ - متوجہ، راغب، آمادہ "وہ لوگ جھگڑوں کی طرف مائل ہو گئے تھے"۔      ( ١٩٩٠ء، بھولی بسری کہانیاں،معسر،٣١ ) ٢ - کسی ایک طرف کو خمیدہ، جھکا ہوا۔ "مذکورہ بالا طریقے سے کتائی کی جائے تو تہہ کو ہمیشہ اوپر کی جانب مائل رکھا جائے۔      ( ١٩٤٤، مٹی کا کام(ترجمہ)، ٦٩ ) ٣ - عاشق، فریضہ  دل یقیناً ہے کسی پر مائل درد پہلے سے سوا لگتا ہے      ( ١٩٩٠ء، کاغذی ہےپیرہن، ١٨ ) ٤ - کسی ایک طرف رجحان یا میلان رکھنے والا ؛ جس کے دل یا طبیعت کا جھکائو کسی ایک سمت ہو۔ "اس کی مائل سطحیں افق کے ساتھ ٣٠ کا زاویہ بناتی ہیں"      ( ١٩٢٩ء، مساعت، ٢، ٧٦:٣ ) ٥ - "تھوڑا سا رنگ لیے ہوئے جیسے ؛ سیاہی مائل، سرخی مائل، زردی مائل وغیرہ۔ "اس کے سبزی مائل چہرے پر غروب آفتاب کی خوں فشاں لالی آگئی تھی"      ( ١٩٨٨ء، یادوں کے گلاب، ١٦١ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً١٧٠٧ء، کو "کلیات ولی" میں مستعمل ملتاہے۔

مثالیں

١ - متوجہ، راغب، آمادہ "وہ لوگ جھگڑوں کی طرف مائل ہو گئے تھے"۔      ( ١٩٩٠ء، بھولی بسری کہانیاں،معسر،٣١ ) ٢ - کسی ایک طرف کو خمیدہ، جھکا ہوا۔ "مذکورہ بالا طریقے سے کتائی کی جائے تو تہہ کو ہمیشہ اوپر کی جانب مائل رکھا جائے۔      ( ١٩٤٤، مٹی کا کام(ترجمہ)، ٦٩ ) ٤ - کسی ایک طرف رجحان یا میلان رکھنے والا ؛ جس کے دل یا طبیعت کا جھکائو کسی ایک سمت ہو۔ "اس کی مائل سطحیں افق کے ساتھ ٣٠ کا زاویہ بناتی ہیں"      ( ١٩٢٩ء، مساعت، ٢، ٧٦:٣ ) ٥ - "تھوڑا سا رنگ لیے ہوئے جیسے ؛ سیاہی مائل، سرخی مائل، زردی مائل وغیرہ۔ "اس کے سبزی مائل چہرے پر غروب آفتاب کی خوں فشاں لالی آگئی تھی"      ( ١٩٨٨ء، یادوں کے گلاب، ١٦١ )

اصل لفظ: میل