مات
معنی
١ - ہارا ہوا، شکست کھایا ہوا، بازی ہارا ہو۔ "مینہ اس قدر برسا کہ برسات کی بارش کو مات کر دیا۔" ( ١٨٤٥ء، حکایتِ سخن سنج، ٤٩ ) ٢ - [ مجازا ] بے رونق، ہیچ، بے رنگ، ماند۔ "ایک نوجوان لڑکی نکلی . جس کے چہرے کے آگے سورج مات تھا۔" ( ١٩٤٠ء، الف لیلہ و لیلہ، ٦:١ ) ٣ - عاجز، تنگ۔ مقید میں مقید ہے تیری ذات نہیں ہوتا کسی خانہ میں تو مات ( ١٩١١ء، کلیات اسمعیل، ٨ ) ١ - مر گیا، موت؛ (مجازاً) شکست، ہار، بازی کی ہار۔ "یہ تمہاری مات اور میری جیت ہے امیلیا۔" ( ١٩٩١ء، قومی زبان، کراچی، دسمبر، ٧٤ ) ٢ - شطرنج میں کشت (شہ) کے بعد بادشاہ کو اگر کوئی بچنے کی جگہ نہیں ملتی تو اس کو مات کہتے ہیں۔ الٹنے کو ہے مدّعی کی بساط بس اب دوسری چال میں مات ہے ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٣٩٦ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ہارا ہوا، شکست کھایا ہوا، بازی ہارا ہو۔ "مینہ اس قدر برسا کہ برسات کی بارش کو مات کر دیا۔" ( ١٨٤٥ء، حکایتِ سخن سنج، ٤٩ ) ٢ - [ مجازا ] بے رونق، ہیچ، بے رنگ، ماند۔ "ایک نوجوان لڑکی نکلی . جس کے چہرے کے آگے سورج مات تھا۔" ( ١٩٤٠ء، الف لیلہ و لیلہ، ٦:١ ) ١ - مر گیا، موت؛ (مجازاً) شکست، ہار، بازی کی ہار۔ "یہ تمہاری مات اور میری جیت ہے امیلیا۔" ( ١٩٩١ء، قومی زبان، کراچی، دسمبر، ٧٤ )