مار
معنی
١ - سانپ، ناگ، افعی۔ درندہ ہو گا تو یا عقرب و مار کوئی حاصل نہ ہوگا تیرے دم سے ( ١٩٨٠ء، خوشحال خاں خٹک (ترجمہ)، ٩٧ ) ٢ - [ کنایتا ] تری، نفیری، بگل جو بل کھاتی ہوئی ہو۔ "دونوں بادشاہ سوار ہو کر کھڑے ہوئے اور فوجوں کی صفیں دونوں طرف درست ہوئیں اور مار دمامے بجنے لگے۔" ( ١٨٠٣ء، گنج خوبی، ٢٤ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٢٣٩ء کو "طوطی نامہ، غواصی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - [ کنایتا ] تری، نفیری، بگل جو بل کھاتی ہوئی ہو۔ "دونوں بادشاہ سوار ہو کر کھڑے ہوئے اور فوجوں کی صفیں دونوں طرف درست ہوئیں اور مار دمامے بجنے لگے۔" ( ١٨٠٣ء، گنج خوبی، ٢٤ )