مارپیٹ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - لڑائی جھگڑا، زد و کوب، جوتی بیزار، لپاڈگی۔ "اتنے دن تم کو ایک نفسیاتی کیس سمجھ کر تمھاری مار پیٹ برداشت کر لی تھی۔"      ( ١٩٩٠ء، چاندنی بیگم، ١٥٩ )

اشتقاق

ہندی زبان سے ماخوذ مصدر 'مارنا' سے صیغۂ امر 'مار' کے بعد سے ماخوذ مصدر 'پیٹنا' سے صیغۂ امر 'پیٹ' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٦٤ء "مذاق العارفین" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لڑائی جھگڑا، زد و کوب، جوتی بیزار، لپاڈگی۔ "اتنے دن تم کو ایک نفسیاتی کیس سمجھ کر تمھاری مار پیٹ برداشت کر لی تھی۔"      ( ١٩٩٠ء، چاندنی بیگم، ١٥٩ )

جنس: مؤنث