مارکہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - علامت، پہچان، امتیازی نشان، شعار۔ "چونکہ یہ مجسمہ اس ہوٹل کے سامنے ہے اس لیے یہ ہوٹل کا شعار یعنی مارکہ ہے۔"      ( ١٩٢٠ء، برید فرنگ، ٩١ ) ٢ - کسی سلطنت یا شاہی خاندان کا مخصوص نشان یا علامت۔ "مقدونیہ کے بادشاہوں کا شعار اور مارکہ بکرا تھا۔"      ( ١٩٢٦ء، شرر مضامین، ١٧٦:٣ ) ٣ - وہ علامت جو کوئی تجارتی کمپنی یا کارخانہ اپنی مصنوعات کے لیے مقرر کرے، ٹریڈ مارک، تجارتی، نشان۔ "یہ ایٹو نیا مارکہ بوٹ تھا۔"      ( ١٩٧٧ء، کرشن چندر، طلسم خیال، ١٠٤ )

اشتقاق

انگریزی زبان سے ماخوذ اسم 'مارک' کے ساتھ اردو قاعدے کے مطابق 'ہ' بطور لاحقۂ نسبت و تذکیر لگانے سے 'مارکہ' بنا۔ اردو زبان میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٢٠ء کو "برید فرنگ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - علامت، پہچان، امتیازی نشان، شعار۔ "چونکہ یہ مجسمہ اس ہوٹل کے سامنے ہے اس لیے یہ ہوٹل کا شعار یعنی مارکہ ہے۔"      ( ١٩٢٠ء، برید فرنگ، ٩١ ) ٢ - کسی سلطنت یا شاہی خاندان کا مخصوص نشان یا علامت۔ "مقدونیہ کے بادشاہوں کا شعار اور مارکہ بکرا تھا۔"      ( ١٩٢٦ء، شرر مضامین، ١٧٦:٣ ) ٣ - وہ علامت جو کوئی تجارتی کمپنی یا کارخانہ اپنی مصنوعات کے لیے مقرر کرے، ٹریڈ مارک، تجارتی، نشان۔ "یہ ایٹو نیا مارکہ بوٹ تھا۔"      ( ١٩٧٧ء، کرشن چندر، طلسم خیال، ١٠٤ )

اصل لفظ: مارک
جنس: مذکر