مارگ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - راستہ، راہ۔ "اس کھلے مارگ پر چلنے سے تجھے کس نے روکا ہے"۔      ( ١٩٢١ء، تپنی پرتاپ، ١١ ) ٢ - مسلک، روش، طریقہ۔ "آخر گاندھی جی کے چیلوں کی سرکار نیائے مارگ پر تو چلے گی ہی"۔      ( ١٩٧٣ء، پگھلا نیلم، ١٣٩ ) ٣ - تدبیر، چارہ، علاج۔ "ہمارے پاس اوس کا بھی مارگ ہے"۔ ١٨٧٨ء، نوابی دربار، ٧٤ ٤ - [ موسیقی ]  تال کی دس اصطلاحوں میں سے دوسری اصطلاح کا نام، یعنی ضرب کے مابین کی حرکت اور سکون کا طریقہ۔ "دس قسمیں یا عناصر ہیں . کال، انگ، کریا، مارگ، جاتی"۔      ( ١٩٧٠ء، اردو شاعری میں جدیدیت کی روایت، ١٣٨ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے اسم جامد ہے اردو میں داخل ہوا، ١٥٦٤ء کو حسن شوقی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - راستہ، راہ۔ "اس کھلے مارگ پر چلنے سے تجھے کس نے روکا ہے"۔      ( ١٩٢١ء، تپنی پرتاپ، ١١ ) ٢ - مسلک، روش، طریقہ۔ "آخر گاندھی جی کے چیلوں کی سرکار نیائے مارگ پر تو چلے گی ہی"۔      ( ١٩٧٣ء، پگھلا نیلم، ١٣٩ ) ٣ - تدبیر، چارہ، علاج۔ "ہمارے پاس اوس کا بھی مارگ ہے"۔ ١٨٧٨ء، نوابی دربار، ٧٤ ٤ - [ موسیقی ]  تال کی دس اصطلاحوں میں سے دوسری اصطلاح کا نام، یعنی ضرب کے مابین کی حرکت اور سکون کا طریقہ۔ "دس قسمیں یا عناصر ہیں . کال، انگ، کریا، مارگ، جاتی"۔      ( ١٩٧٠ء، اردو شاعری میں جدیدیت کی روایت، ١٣٨ )

جنس: مذکر