ماضی

قسم کلام: اسم ظرف زماں ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - گزشتہ زمانہ، گزرے ہوئے دن۔ "ایرانی محققین اور اہل قلم نے ایران کے قبل تاریخ ماضی کو دوبارہ زندگی دی۔"      ( ١٩٨٦ء، اقبال اور جدید دنیائے اسلام، ٢٦٠ ) ٢ - [ صرف ]  مصدر کا وہ صیغہ جس سے زمانۂ گزشتہ ظاہر ہو، وہ فعلی صورت جو زمانۂ گزشتہ سے تعلق رکھے۔ "ماضی وہ زمانہ ہے جو گزر گیا۔"      ( ١٩٧١ء، جامع القواعد (حصہ صرف)، ٣٨٤ ) ١ - گزرا ہوا، گزشتہ۔ "ماضی سانحوں کا حال شایقوں کو سناتے ہیں۔"      ( ١٨٦٢ء، شبستان سرور، ٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور صفت اور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٥٨٢ء کو "کلمۃ الحق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گزشتہ زمانہ، گزرے ہوئے دن۔ "ایرانی محققین اور اہل قلم نے ایران کے قبل تاریخ ماضی کو دوبارہ زندگی دی۔"      ( ١٩٨٦ء، اقبال اور جدید دنیائے اسلام، ٢٦٠ ) ٢ - [ صرف ]  مصدر کا وہ صیغہ جس سے زمانۂ گزشتہ ظاہر ہو، وہ فعلی صورت جو زمانۂ گزشتہ سے تعلق رکھے۔ "ماضی وہ زمانہ ہے جو گزر گیا۔"      ( ١٩٧١ء، جامع القواعد (حصہ صرف)، ٣٨٤ ) ١ - گزرا ہوا، گزشتہ۔ "ماضی سانحوں کا حال شایقوں کو سناتے ہیں۔"      ( ١٨٦٢ء، شبستان سرور، ٥ )

اصل لفظ: مضی