مالا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ہندوئوں کی تسبیح، سمرن "بقیہ عمر مالا ہی پکڑنے رہنے میں اس جنم کے لیے تیر کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا"۔      ( ١٩٨٦ء، انصاف، ١٧ ) ٢ - سونے، موتی یا پھولوں کا ہار "موتی اکیلا ہو، دو ہوں یا موتیوں کی مالا ہو، بہر حال موتی ہیں"۔      ( ١٩٨٦ء، فیضان فیض، ١٦٥ ) ٣ - وہ نشان جو تلوار وغیرہ کے دونوں طرف ہوتا ہے۔  گلا زیر تیغ صنم رات دن ہے سروہی کا مالاہے مالا ہمارا      ( ١٨٧٢ء، عاشق لکھنوی، فیض نشان، ٣٤ ) ٦ - [ کتائی سوت ]  کھڑی تھاڑی کا سرا ٹکانے کا پیالے نما ظرف جس میں تھاڑی گھماتے وقت سرا جگہ پر قائم رہتا ہے۔ (اصطلاحات پیشہ وراں 18:2) ٧ - [ تیاری اون ]  تار کاتنے کے لیے صاف شدہ اور دھنے ہوئے اون کی بنائی ہوئی پونی یا چھوٹی سی تھئ جس کو کاتنے سے پہلے پانی میں بھگورکھتے ہیں۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 20:2)

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ عربی رسم الخظ کے ساتھ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٥٤ء، کو "گنج شریف" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہندوئوں کی تسبیح، سمرن "بقیہ عمر مالا ہی پکڑنے رہنے میں اس جنم کے لیے تیر کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا"۔      ( ١٩٨٦ء، انصاف، ١٧ ) ٢ - سونے، موتی یا پھولوں کا ہار "موتی اکیلا ہو، دو ہوں یا موتیوں کی مالا ہو، بہر حال موتی ہیں"۔      ( ١٩٨٦ء، فیضان فیض، ١٦٥ )

جنس: مؤنث