مالش

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ملنا، رگڑنا، سختی۔ "اس نے جلدی جلدی رگڑ رگڑ کر منہ دھویا، موچھوں کو جن پر سارے سارے دن مالش رہتی تھی بل نکال کر سیدھا کیا"      ( ١٨٨٥ء، فسانۂ مبتلا، ١٠٤ ) ٢ - جی کامتلانا، متلی "ان سے یہ جزان ارتکازوں کے جو انتہائی کم زور ہوں باقی تمام ارتکازوں میں طبیعت مالش کرنے لگتی ہے"      ( ١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں، ٣٩٩ ) ٣ - کسی چیز مثلاً تیل وغیرہ کو جسم پر مل کر جذب کرنا۔ "اس کی پیشانی اور کنپٹیوں کے درمیانی حصوں پر خون کی مالش کی"      ( ١٩٩٠ء، بھولی بسری کہانیاں، کھر، ١٨٦ ) ٤ - کھریرا پھیرنا، کھریرا کرنا "سائیسوں پر تاکید رکھنی چاہیے کہ مالش مستعدی اور محنت کے ساتھ کریں"۔      ( ١٩١٦ء، معاشرت(سلطان جہاں بیگم)١٩٠ ) ٥ - صیقل، جلا  مالش نہ پائیں سنگ حوارث کی نیک ذات صیقل کو تیغ چوب کے کیا چاہیے کرنڈ      ( ١٧٩١ء، حسرت (جعفر علی | کلیات، ١٦٢) ) ٦ - سرزش، سرکوبی، سزا "حریف باز نہ آتا تو وہ ہجو سے حریف کی ایسی مالش کرتے کہ زندگی بھر وہ ادھر کا رخ نہ کرتا"      ( ١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو ٦٥٩:٢ )

اشتقاق

فارسی مصدر 'مالیدن' سے حاصل مصدر 'مالش' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨١٨ء، کو "کلیات انشا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ملنا، رگڑنا، سختی۔ "اس نے جلدی جلدی رگڑ رگڑ کر منہ دھویا، موچھوں کو جن پر سارے سارے دن مالش رہتی تھی بل نکال کر سیدھا کیا"      ( ١٨٨٥ء، فسانۂ مبتلا، ١٠٤ ) ٢ - جی کامتلانا، متلی "ان سے یہ جزان ارتکازوں کے جو انتہائی کم زور ہوں باقی تمام ارتکازوں میں طبیعت مالش کرنے لگتی ہے"      ( ١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں، ٣٩٩ ) ٣ - کسی چیز مثلاً تیل وغیرہ کو جسم پر مل کر جذب کرنا۔ "اس کی پیشانی اور کنپٹیوں کے درمیانی حصوں پر خون کی مالش کی"      ( ١٩٩٠ء، بھولی بسری کہانیاں، کھر، ١٨٦ ) ٤ - کھریرا پھیرنا، کھریرا کرنا "سائیسوں پر تاکید رکھنی چاہیے کہ مالش مستعدی اور محنت کے ساتھ کریں"۔      ( ١٩١٦ء، معاشرت(سلطان جہاں بیگم)١٩٠ ) ٦ - سرزش، سرکوبی، سزا "حریف باز نہ آتا تو وہ ہجو سے حریف کی ایسی مالش کرتے کہ زندگی بھر وہ ادھر کا رخ نہ کرتا"      ( ١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو ٦٥٩:٢ )

اصل لفظ: مالیدن
جنس: مؤنث