مالک

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کسی چیز کی ملکیت رکھنے والا شخص، والی۔ "اسٹال کے مالکوں کی آنکھوں میں بے زاری اور دشمنی کے آثار نمایاں ہو جاتے"      ( ١٩٨٦ء، بارگشت و بازیافت، ٩٦ ) ٢ - اللہ تعالٰی کا ایک صفائی نام  رہے باپ بیٹوں پہ مالک کا سایہ مع جاہ و اقبال و دولت سلامت      ( ١٩٢٨ء، مرقع لیلیٰ مجنوں، ٨ ) ٣ - شوہر، خاوند  جسم شوہر جوہوا خنجر دشمن سے فگار چیخی بیوی کوئی آ کر مرے مالک کو بچائے      ( ١٩٨٢ء،ط ظ ، ٩١ ) ٤ - آقا، صاحب حاکم  توہی ہے رازق و مالک تمام جانوں کا سبھی ہیں دست نگر لا الہ الا اللہ      ( ١٩٨٨ء، مرج البحرین، ١٣ ) ٥ - اختیار رکھنے والا، با اختیار، صاحب اختیار "وہ اپنے گھر میں مالک و مختار تھیں"      ( ١٩٩٢ء، قومی زبان، کراچی، نومبر، ٢٧ ) ٦ - قابض، متصرف  مالک ہوں میں کوئے صنم پردہ نشیں کا دوزخ کہوں گر روضۂ رضوان ادھر آئے      ( ١٨٦١ء، کلیات اختر، ٧١٧ ) ٧ - ایک فرشتے کا نام جو دوزخ کا نگراں ہے، دوزخ کا داروغہ۔ "مالک نام ہے فرشتہ کا جو دوزخ کا داروغہ ہے"      ( ١٩٣٢ء، ترجمہ قرآن، (تفسیر) مولانا شبیر احمد عثمانی، ٨٤٦ ) ٨ - وہ سوداگر جس نے حضرت یوسف کو مصر میں بہت سستا بیچ ڈالا۔  کیا پانی کے مول آ کر مالک نے گر بیچا ہے سخت گراں سستا یوسف کا بکا جانا      ( ١٨١٠ء، میر(نوراللغات) ) ٩ - امام مالک، فقۂ اہل سنت کے چار بڑے اماموں میں سے ایک کا نام جن کے پیرو مالکی کہلاتے ہیں۔ مسلک مالکی کے پیروکار۔  بے فقہ جو صوفی ہووے سالک زندیق ہے وہ بقول مالک      ( ١٨٧٤ء، جامع المظاہر منتخب الجواہر،٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٠٩ء، کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتاہے۔

مثالیں

١ - کسی چیز کی ملکیت رکھنے والا شخص، والی۔ "اسٹال کے مالکوں کی آنکھوں میں بے زاری اور دشمنی کے آثار نمایاں ہو جاتے"      ( ١٩٨٦ء، بارگشت و بازیافت، ٩٦ ) ٥ - اختیار رکھنے والا، با اختیار، صاحب اختیار "وہ اپنے گھر میں مالک و مختار تھیں"      ( ١٩٩٢ء، قومی زبان، کراچی، نومبر، ٢٧ ) ٧ - ایک فرشتے کا نام جو دوزخ کا نگراں ہے، دوزخ کا داروغہ۔ "مالک نام ہے فرشتہ کا جو دوزخ کا داروغہ ہے"      ( ١٩٣٢ء، ترجمہ قرآن، (تفسیر) مولانا شبیر احمد عثمانی، ٨٤٦ )

اصل لفظ: ملک
جنس: مذکر