مانجھ

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - [ موسیقی ]  ایک راگنی کا نام۔  خستہ شہر کی گلیوں میں ٹھاٹ ہے رنگا ہے مانجھ گھر بگھر اور شورتال مردنگا      ( ١٧٤٧ء، دیوانِ قاسم، ٢٣٥ ) ٢ - پنجابی نظم کی ایک صنف۔ "سید غلام قادر شاہ کی مندرجہ ذیل تصانیف کا اب تک ہمیں علم ہو سکا ہے، اردو، فارسی اور پنجابی کلام، یہ کلام سہ حرفی، غزل، نعت، مستزاد، مسدس اور مانجھ کی اصناف میں ہے۔"      ( ١٩٦٨ء، مثنوی رمزالعشق معہ چرخی نامہ (مقدمہ)، ٩ ) ١ - درمیان، بیچ، بیچ میں۔  ہوویں ہمیں مدت تلتل کھڑی مانجھ کریں شہ دستگیری صبح ہور سانجھ      ( ١٥٩٢ء، ولایت نامہ (ق)، قریشی، ٤٦ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو زبان میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور متعلق فعل اور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٩٢ء کو قریشی کے ہاں "ولایت نامہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - پنجابی نظم کی ایک صنف۔ "سید غلام قادر شاہ کی مندرجہ ذیل تصانیف کا اب تک ہمیں علم ہو سکا ہے، اردو، فارسی اور پنجابی کلام، یہ کلام سہ حرفی، غزل، نعت، مستزاد، مسدس اور مانجھ کی اصناف میں ہے۔"      ( ١٩٦٨ء، مثنوی رمزالعشق معہ چرخی نامہ (مقدمہ)، ٩ )

اصل لفظ: مدھی
جنس: مؤنث